تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 380
ہے اور ایک فائدہ کافروں کے بارہ میں حاصل ہوتا ہے۔کہ ان کی اندرونی گمراہی کا پتہ چل جاتا ہے۔اِضْـلَالکے معنے گمراہی کے متعلق فیصلہ صادر کرنے کے حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا میں گو نسبت گمراہ کرنے کی خدا تعالیٰ کی طرف ہے مگر ایک تو اس کے معنی ہلاک کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔دوسرے اِضْـلَال کے معنی گمراہی کا نتیجہ نکالنے کے بھی ہوتے ہیں جیسے کہ ائمہ کتب لغات نے بیان کیا ہے اور جیسا کہ خود آیت کا اگلا ٹکڑا بتا رہا ہے کیونکہ اس ٹکڑے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وَ مَا يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ یعنی خدا تعالیٰ اس قسم کے استعارہ اور تشبیہ والے بیانات سے صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے۔اور فاسق چونکہ پہلے سے ہی گمراہ ہوتا ہے اس لئے اس کے معنی یہی ہوئے کہ جو گمراہ ہوں ان کی گمراہی کو ظاہر کر دیتا ہے اور ان کی گمراہی کے متعلق اپنا فیصلہ صادر فرما دیتا ہے۔الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ١۪ وَ جو اللہ کے عہد کواس کے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں يَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يُفْسِدُوْنَ فِي اور اس چیز کو جسے ملانے کا اللہ نے حکم دیا ہے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد کرتے ہیں الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۰۰۲۸ وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔حَلّ لُغَات۔یَنْقُضُوْنَ۔نَقَضَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور نَقَضَ الْعَہْدَ وَالْاَمْرَ کے معنی ہیں ضِدُّ اَبْرَمَہٗ۔وَاَفْسَدَہٗ بَعْدَ اِحْکَامِہٖ کہ کسی عہد کو پختہ کرنے کے بعد پھر توڑ دیا (اقرب) پس یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ کے معنے ہیں وہ اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں۔عَھْد۔اَلْوَ فَاءُ۔وفا۔اَلضَّمَانُ ضمانت۔اَلْمَوَدَّۃُ دوستی۔اَلذِّمَّۃُ ذمہ داری۔عہد۔اَلْوَصِیَّۃُ۔وصیّت۔اَلْمَوْثِقُ۔عہد۔نیز کہتے ہیں عَھِدَ فُـلَانُ الشَّیْءَ اور معنے یہ ہوتے ہیں حَفِظَہٗ وَرَاعَاہُ حَالًا بَعْدَ حَالٍ اس کی حفاظت کی اور ہر گھڑی اس کی نگہداشت میں لگا رہاہے۔قِیْلَ ھٰذَا اَصْلُہٗ ثُمَّ اسْتُعْمِلَ فِی الْمَوْثِقِ الَّذِیْ