تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 378
نقشہ نہیں بلکہ بطور استعارہ کے استعمال ہوئی ہیں جیسے کسی استقلال والے شخص کو کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو پہاڑ ہے اب پہاڑ سے اس امر کی طرف اشارہ کرنا مقصود نہیں ہوتا کہ وہ اُونچا اور ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ پہاڑ کو جو مقام جسمانی دنیا میں حاصل ہے وہ مقام اس شخص کو اخلاق کی دنیا میں حاصل ہے اور وہ اخلاقی طور پر بلند حوصلہ اور اپنے ارادہ سے نہ ٹلنے والا ہے لیکن پھر بھی چونکہ ان استعاروں کے علاوہ قرآن کریم میں جنت کی نعماء کی امتیازی خصوصیات بھی بیان کی گئی ہیں اس لئے مومن ان استعاروں کو سُن کر فوراً ان دوسرے مضامین کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ جو کچھ فرمایا سچ فرمایا اور یہ صداقت معمولی نہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے رب کی طرف سے آئی ہے یعنی یہ استعارے اور تشبیہات بالکل اس مضمون کے مطابق ہیں جو دوسری جگہوں پر جنت کی روحانی کیفیات کے متعلق بیان ہوا ہے گویا مومن ان استعاروں کی صحت اور ان کی مطابقت کی داد دیتے ہیں اور ان کے دل اس لذت سے مسرور ہو جاتے ہیں مگر اس کے مقابلہ میں کفار جو قرآن کریم کے دوسرے مضامین کو جو اس بارہ میں بیان ہوئے ہیں (جیسا کہ وہ مضامین جو میں جنت کی نعمتوں کے بارہ میں آیات قرآنیہ میں سے ہی پہلے بیان کر آیا ہوں) یا توجانتے نہیں یا جاننا چاہتے نہیں ان استعاروں اور تشبیہوں کو سن کر کہتے ہیں کہ مَاذَا اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَـلًا آخر اس قسم کی بات بیان کرنے سے خدا تعالیٰ کا منشاء کیا ہے یہ تو جیسی بیان ہوئی جیسی نہ ہوئی۔یہ تعصب او رجہالت کا نتیجہ ہوتا ہے ورنہ اِس دنیا میں استعاروں اور تشبیہات سے بہت بڑا کام لیا جاتا ہے استعارہ اور تشبیہ ہر زبان کا ایک جزو اہم ہیں اور اعلیٰ ادیب اس سے کام لیتے ہیں۔ایک بہادرکو بہادر کہنے سے اگرکام لیا جا سکتا تو اسے شیر کے نام سے کیوں موسوم کرتے ایک سخی کو اگر سخی کہنے سے وہی فائدہ حاصل ہو سکتا جو حاتم کہنے سے حاصل ہو سکتا ہے تو اسے حاتم کیو ںکہتے ہیں؟ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ میں جنّت کے متعلق پرُاِستعارہ کلام پر مومنوں کے ایمان رکھنے کا ذکر اصل بات یہ ہے کہ غیر مرئی اور لطیف وجودوں کو تشبیہات کے ذریعہ سے ہی ذہن کے قریب کیا جاسکتا ہے۔آواز کے اُتار چڑھائو، سمٹنے اور پھیلنے کو بیان کرنے کے لئے انسان کے پاس کوئی معیار نہیں۔جب ایک شخص دوسرے کے سامنے آواز کی خوبی بیان کرتا ہے تو کس طرح اُسے میٹھی کے لفظ سے ظاہر کرتا ہے حالانکہ میٹھا تو زبان کے ذائقہ سے تعلق رکھتا ہے لیکن پھر بھی آواز کی خوبی کو بیان کرنے کے لئے خوب اچھی وغیرہ الفاظ سے انسان کو تسلی نہیں ہوتی اور آخر وہ میٹھی آواز کہہ کر اپنے مطلب کو بیان کرتا ہے۔خوشبو کا ذکر بھی مشکل ہوتا ہے اور خوشبو کے مختلف اثرات کو بیان کرنے والے کسی خوشبو کو پھسلنے والی، کسی کو گول اور کسی کو چپٹی کہہ کر اس کی کیفیت ذہن نشین کراتے ہیں حالانکہ خوشبو