تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 372
فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ لوگ (تو) ایمان رکھتے ہیں وہ تو جان لیتے ہیں کہ وہ ان کی رب کی طرف سے بالکل (حق ) بات ہے اور جو لوگ کافر رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ (آخر) اللہ کا اس (بات) کے بیان کرنے سے منشا کیا ہے (اصل بات یہ ہے کہ) وہ بہت بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا١ۙ وَّ يَهْدِيْ بِهٖ كَثِيْرًا١ؕ وَ مَا (سے لوگوں) کو اس کے ذریعہ سے گمراہ قرار دیتا ہے اور بہت(سے لوگوں) کو اس کے ذریعہ سے ہدایت دیتا ہے يُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَۙ۰۰۲۷ اور وہ اس کے ذریعہ سے ان نافرمانوں کے سوا (کسی کو) گمراہ نہیں قراردیتا۔حَلّ لُغَات۔یَسْتَحْیٖ۔یَسْتَحْیٖ اِسْتَحْیَا سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِسْتَحْیَا حَیِیَ سے باب اِستفعال ہے حَیِیَ مِنْہُ حَیَاءً کے معنے ہیں اِحْتَشَمَ اس سے رُکا (اقرب) اَلْحَیَاءُ (جو حَیِیَ کا مصدر ہے) کے معنی ہیں اِنْقِبَاضُ النَّفْسِ مِنْ شَیْءٍ وَتَرْکُہٗ حَذَرًا مِنَ اللَّوْمِ فِیْہِ یعنی طبیعت کا کسی امر سے رُکنا اور کسی امر کو لوگوں کی ملامت کے خوف سے چھوڑ دینا حَیَاء کہلاتا ہے اور اِسْتَحْیَاہُ وَ اِسْتَحْیَامِنْہُ کے معنی ہیں۔اِنْقَبَضَ عَنْہُ وَامْتَنَعَ مِنْہُ کسی چیز سے رُکا۔اِسْتَحْیَاکے ایک معنی خَجَلَ کے بھی ہیں یعنی شرم کے مارے حیرانگی اور اضطراب میں پڑ گیا۔اس آیت میں اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيٖۤ کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نہیں رُکتا۔(اقرب) اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا۔ضَرَبَہٗ بِیَدِہٖ کے معنی ہیں اَصَا بَہٗ وَ صَدَمَہٗ بِھَا اس کو ہاتھ سے مارا۔ضَرَبَہٗ بِالسَّوْطِ کے معنے ہیں جَلَدَہٗ۔اس کو کوڑے سے مارا۔(اقرب) اَلْمَثَلُکے معنی ہیں اَلشِّبْہُ وَالنَّظِیْرُ۔مشابہ۔اَلصِّفَۃُ بیان۔اَلْحُجَّۃُ۔دلیل۔یُقَالُ اَقَامَ لَہٗ مَثَـلًا اَیْ حُـجَّۃً: اَقامَ لَہٗ مَثَـلًا کے معنی ہیں کہ اس پر حجت قائم کی۔اَلْحَدِیْثُ۔عام بات۔اَلْقَوْلُ السَّائِرُ۔ضرب المثل۔اَلْعِبْرَۃُ۔عبرت۔اَ لْاٰیَۃُ۔نشان (اقرب) اور ضَرَبَ لَہٗ مَثَـلًا کے معنے ہیں وَصَفَہٗ وَ قَالَہٗ وَ بَیَّنَہٗ۔بیان کیا اور اچھی طرح سے واضح کیا (اقرب) پس اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْيٖۤ اَنْ