تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 373
يَّضْرِبَ مَثَلًا کے معنی ہوں گے کہ اللہ نہیں رُکتا کسی بات کے بیان کرنے سے۔فَوْقَھَا۔فَوْقٌ عربی زبان میں دونوں معنی رکھتا ہے اگر بڑائی کا مقابلہ ہو تو اس کے معنے زیادہ بڑے کے ہو سکتے ہیںاور اگر چھوٹے ہونے کا ذکر ہو تو زیادہ چھوٹا ہونے کے معنے دے سکتا ہے۔اِس آیت میں دونوں معنی کئے جا سکتے ہیں یہ بھی کہ مچھر سے بڑی بات۔یا یہ کہ اس سے بھی چھوٹی بات۔کہتے ہیں فُـلَانٌ اَسْفَلُ النَّاسِ وَ اَذَلُّہُمْ کا جواب اگر ھُوَ فَوْقَ ذَالِکَ دیا جائے تو اس کے یہ معنی نہ ہوں گے کہ وہ اس قدر کمینہ نہیں بلکہ یہ کہ وہ اس سے بھی زیادہ کمینہ ہے۔(کشّاف) اٰمَنُوْا۔اٰمَنَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اٰمَنَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۴ اور آیت ۹۔اَلْحَقُّ۔اَلْحَقُّ ضِدُّ الْبَاطِلِ جھوٹ کے خلاف چیز یعنی سچ۔اَ لْاَمْرُ المَقْضِیُّ ہو کر رہنے والی بات۔اَلْعَدْلُ انصاف۔اَ لْمِلْکُ مالکیّت۔اَ لْمَوْجُوْدُ اَلثَّابِتُ یعنی ثابت رہنے والی چیز۔اَلْیَقِیْنُ بَعْدَ الشَّکِّ شک کے بعد یقین کا آنا۔(اقرب) کَفَرُوْا۔کَفَرُوْا کَفَرَ سے جمع مذکر کا صیغہ ہے اور کَفَرَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت ۷۔یُضِلُّ۔یُضِلُّ اَضَلَّ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے جو ضَلَّ (مجرد) سے بنا ہے۔ضَلَّ کے معنی حَلِّ لُغَات سورہ فاتحہ آیت ۷ میں بتائے جا چکے ہیں۔اور اَضَلَّہٗ کے معنے ہیں۔دَفَنَہٗ وَغَیَّبَہٗ اس کو دفن کر دیا اور غائب کر دیا۔اَضَاعَہٗ اس کو ضائع کر دیا۔اَھْلَکَہٗ اس کو ہلاک کر دیا۔اَضَلَّ اللّٰہُ فُــلَانًا کے ایک معنے یہ بھی ہیں صَیَّرَہٗ اِلَی الضَّـلَالِ اللہ نے اُسے گمراہی کی طرف پھیر دیا۔اور جب اَضَلَّ فُـلَانُ الْفَرَسَ وَالْبَعِیْرَ کہیں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ شَرَدَا وَ ذَھَبَا عَنْہُ وَلَمْ یَدْرِ اَیْنَ اَخَذَا کہ فلاں شخص کا اونٹ اور گھوڑا غائب ہو گئے اور علم نہ ہوا کہ وہ کدھر چلے گئے ہیں (اقرب) کلیات ابی البقاء اورمفردات راغب میں ہے کہ اِضْلَال کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی دو طرح ہوتے ہیں (۱) کہ انسان گمراہ تو خود ہوتا ہے۔ہاں اللہ تعالیٰ اس کے گمراہ ہونے کا فیصلہ کر دیتا ہے۔اور آخرت میں اسے اس کے نتیجہ میں دوزخ کی طرف لے جاتا ہے (۲) فطرتِ انسانی میں یہ بات رکھ دی گئی ہے کہ جب وہ کسی برُی بات کو یا اچھی بات کو بار بار کرتا ہے تو وہ اچھا سمجھنے لگ جاتا ہے اور اس سے رُکنا اس کے لئے مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ اس بات کا کرنا اس کی عادت میں داخل ہو جاتا ہے چونکہ فطرت کو اللہ تعالیٰ ہی نے اس قسم کا بنایا ہے اس لئے اضلال یا