تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 368

ممالک پر حکومت کر کے اُن کے سردار کی جس عزت کا اظہار کیا کاش مسیحی لوگ دو تین سو سال کی حکومت پر ایسے مغرور نہ ہو جاتے کہ اس نبیوں کے سردارؐ پر اس طرح درندو ںکی طرح حملے کرتے اور مسلمانوں کے اس احسان کا کچھ تو خیال کرتے کہ انہو ںنے یسوع کے خلاف کبھی جارحانہ قدم نہیں اٹھایا ور نہ حق یہ ہے کہ مسلمان یسوع کی نسبت اس سے بہت زیادہ کہہ سکتے ہیں جو مسیحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہتے ہیں۔سرولیم میور کے اعتراض کا جواب سر ولیم نے اپنی طرف سے ایک گندہ اعتراض تو کر دیا لیکن یہ نہیں سوچا کہ مکی اور مدنی سورتوں میں اس قسم کا فرق صرف عورتوں کے بارہ میں ہی نہیں ہے بلکہ اور امورمیں بھی ہے مثلاً یہ کہ مکی سورتوں میں یہ ذکر آیا ہے کہ جنت میں شراب ہو گی مگر کسی مدنی سورۃ میں یہ ذکر نہیں، مکی سورتوں میں یہ ذکر ہے کہ جنت میں شہد ہو گا مگر کسی مدنی سورۃ میں یہ ذکر نہیں۔مکی سورتوں میں یہ ذکر ہے کہ جنت میں دودھ کی نہریں ہوںگی مگر کسی مدنی سورۃ میں یہ ذکر نہیں، (جیسا کہ اوپر گزری ہوئی آیات سے ثابت ہے) اب اگر سرولیم کا خود ساختہ نفسیاتی نکتہ صحیح ہے کہ چونکہ مکہ میں محمد (صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ ٖ و اصحابہٖ ) کی ایک ہی بیوی تھی اور وہ بڑی عمر کی اس لئے آپؐ کو جنت کے نقشے میں عورتیں نمایاں نظر آتی تھیں تو کیا شراب کے ذکر میں بھی سر ولیم کا یہ نکتہ چسپاں ہو سکے گا؟ کہ چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں شراب نہ ملتی تھی اس لئے جنت میں بھی انہیں شراب نظر آتی تھی اور مدینہ میں چونکہ شراب ملنے لگی اس لئے مدنی زندگی میں قرآنی جنت میں سے شراب کا ذکر حذف ہو گیا ، یا کیا اسی قاعدہ کی رُو سے یہ نتیجہ بھی نکالا جا سکے گا کہ مکہ میں آپؐ کو دودھ نہ ملتا تھا اس لئے جنت میں دودھ میسر ہونے کا آپؐ خیال کیا کرتے تھے؟ مگر مدینہ میں چونکہ دودھ ملنے لگا یہ خیال کمزور پڑ گیا یا کیا یہ کہنا درست ہو گا کہ مکہ میں چونکہ آپؐ کو شہد نہ ملتا تھا اس لئے آپؐ اس کے شوق کی وجہ سے جنت میں شہد کی کثرت کا خیال کرتے تھے؟ مگر مدینہ میں چونکہ شہد ملنے لگا آپؐ نے اس کے ذکر کو چھوڑ دیا۔کیا کوئی انسان بھی جس کے دماغ میں عقل ہو اس قسم کی خرافات کو تسلیم کر سکتا ہے اگر وہ نفسیاتی نکتہ صحیح ہے تو پھر ان دوسری باتوں پر بھی اسے چسپاں کر کے دکھائیں۔حقیقت یہ ہے کہ مکی زندگی کے اکثر حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے زیادہ فراخی حاصل تھی جس قدر کہ مدنی زندگی میں حاصل تھی کیونکہ آپؐ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت مالدار تھیں اور جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے انہوں نے اپنا سب مال آپؐ کی خدمت میں پیش کر دیا تھا چنانچہ آپؐ کی وہ اولاد جو مکہ میں جوان ہوئی اور بیاہی گئی اس کی نسبت ثابت ہے کہ اسے قیمتی زیورات جہیز میں دیئے گئے مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو مدینہ میں بیاہی گئیں انہیں ایک چھلّا تک نہیں ملا۔غرض دنیوی لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم