تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 367

خیال رکھنا چاہیے کیونکہ اگر وہ دنیوی زندگی کی طرح اگلے جہان میں بھی اکٹھا رہنا چاہتے ہیں تو چا ہیئے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو بھی نیک بنانے کی کوشش کرے تا ایسا نہ ہو کہ میاں جنت میں ہو اور بیوی دوزخ میں ہو یا بیوی جنت میں اور میاں دوزخ میں ہو۔ان معنوں کے رُو سے یہ روحانی پاکیزگی کی ایک اعلیٰ تعلیم ہے جس پر اعتراض کرنے کی بجائے اس کی خوبی کی داد دینی چاہیے۔باقی رہا یہ کہ اِس کے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ہر شخص کو ایک پاک جوڑا دیا جائے گا تو ان معنوں کے رو سے بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر یہی معنی ہوں کہ ہر مرد کو ایک پاک بیوی دی جائے گی اور ہر عورت کو ایک پاک مرد دیا جائے گا تو اس پر کیا اعتراض ہے۔اعتراض تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی ناپاک فعل کی طرف اشارہ کیا جائے۔جب قرآن شریف پاک کا لفظ استعمال کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ جنت میں وہی کچھ ہو گا جو جنت کے لحاظ سے پاک ہے پھر اِس پر اعتراض کیسا؟ سرولیم میور کا آیت وَ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌ پر ایک اعتراض سرولیم میور نے اِس آیت کے مضمون پر ایک نہایت ناپاک اعتراض کیا ہے اور ریورنڈ وہیری نے حسب ِ عادت اس کی تصدیق کی ہے۔وہ اعتراض یہ ہے کہ قرآن کریم کی مکی سورتوں میں جنت میں عورتوں کا ذکر کثرت سے اور زیادہ جوش سے کیا گیا ہے لیکن مدنی سورتوں میں صرف دو دفعہ اور نہایت مختصر الفاظ میں جو یہ ہیں کہ مومنوں کو جنت میں پاک بیویاں ملیں گی ذکر کیا گیا ہے اس سے (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک) یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چونکہ مکہ میں آپؐ کی صرف ایک بیوی تھی اور وہ بھی عمر میں بڑی اس لئے محمد صاحب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو عورتوں کا خیال زیادہ آتا تھا مگر مدینہ میںچونکہ یہ خواہش پوری ہو گئی اور کئی جوان بیویاں مِل گئیں یہ خیال کم ہو گیا۔سرولیم نے جو اعتراض کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ قرآنی آئینہ میں اپنا منہ دیکھا ہے اور ریورنڈ وہیری نے پادریوں کے روایتی تعصب کو قائم کیا ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ لوگ تعلیم یافتہ کہلاتے ہوئے اور تہذیب کا دعویٰ کرتے ہوئے کروڑوں انسانوں کے پیشوائوں پر قیاسی باتوں کی بناء پر کس طرح حملہ کر دیتے ہیں حالانکہ خود ان لوگوں کے اخلاق اس قدر گرے ہوئے اور ذلیل ہوتے ہیں کہ انسانیت کو ان سے شرم آتی ہے۔ان کی یہ جرأت محض اس وجہ سے ہے کہ اس وقت عیسائیوں کو حکومت حاصل ہے اور ان کو یہ شرم بھی نہیں آتی کہ جب مسلمان دنیا پر حاکم تھے اور مسیحیوں کا اس سے بھی پتلا حال تھا کہ جو اس وقت مسلمانوں کا مسیحیوں کے مقابل پر ہے اس وقت بھی مسلمانوں نے یسوع ناصری کے بارہ میں سخت الفاظ کبھی استعمال نہیں کئے۔مسلمانوں نے ہزار سال تک مسیحی