تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 366
کر اپنے اثر کو کمزور کر لیتی ہے اور بہت تھوڑی غذا حقیقتاً ہمارے جسم کے کام آتی ہے۔اسی طرح اِس دنیا میں رُوحانی اعمال کا حال ہوتا ہے۔کوئی نیک عمل ظاہر ہوتا ہے تو کوئی بد۔اور بدیاں نیکیوں کے اثرات کوکم کرتی رہتی ہیں مگر اُخروی زندگی کے متعلق فرماتا ہے کہ وہاں جو روحانی غذا ملے گی وہ متشابہ ہو گی یعنی تاثیر کے لحاظ سے ہر چیز دوسری کی ممد ہو گی اور یہ نہ ہو گا کہ کوئی غذا رُوحانیت کی طرف لے جائے تو کوئی اس سے دور کرے بلکہ ساری کی ساری غذا ایک دوسری کی ممد ہو گی اور رُوحانی ترقی کا موجب ہو گی اور انسانی رُوح ہر قسم کی روحانی بیماریوں سے محفوظ ہو جائے گی اور روحانی بیماریاں اسی مادی دنیا میں رہ جائیں گی۔وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاسے مراد اندرونی قویٰ کے مشابہ غذا ایک معنی اس کے یہ بھی ہیں کہ جنت کی غذا ہر شخص کے اندرونی قویٰ کے مطابق ہو گی جیسی اس کی طاقت ویسی غذا۔یعنی جس جس انسان کو روحانی ترقی کے لئے جس جس قسم کی روحانی غذا کی ضرورت ہو گی وہی غذا اس کے لئے مہیا کی جائے گی تاکہ اس کی رُوحانی طاقتیں بڑھتی چلی جائیںاور کوئی روک پیدا نہ ہو۔وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاسے مراد جناّت کے پھلوں کا اس دنیا کے پھلوںسے ہم شکل ہونا ایک معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ گو جنت کے پھل دنیا کے پھلوں کے ہم شکل ہوں گے مگر یہ مشابہت صرف شکل کی ہو گی ورنہ اپنی لذت اور تاثیر اور حقیقت کے لحاظ سے وہ اِن سے مختلف ہوں گے کیونکہ یہ مادی جسم والے پھل ہیں اور وہ روحانی جسم والے پھل ہوں گے۔وَ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌکا مطلب اور ازواج سے مراد پاک ساتھی یا بیویاں وَ لَهُمْ فِيْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ۔انہیں وہاں پاک ساتھی یا پاک بیویاں یا پاک خاوند ملیں گے۔پاک ساتھی کے معنوں کی صورت میں تو کسی کے لئے اعتراض کرنے کی گنجائش ہی نہیں کیونکہ اِس صورت میں اِس کے یہ معنی ہوں گے کہ جنت میں جس طرح غذا ایک دوسرے کی ممد ہو گی اس طرح اس کے سب مکین ایک دوسرے کی رُوحانی ترقی میں مدد کرنے والے ہوں گے گویا اندرونی اور بیرونی ہر طرح کا امن اور تعاون حاصل ہو گا۔اور اگر خاوند یا بیوی کے معنی کئے جائیں کیونکہ ازواج مرد اور عورت دونوں کے لئے بولا جاتا ہے عورت کا زوج اس کا خاوند ہے او رمرد کا زوج اس کی بیوی تو اس صورت میں اس کے ایک معنی یہ ہوں گے کہ ہر جنتی کے پاس اس کا وہ جوڑا رکھا جائے گا جو نیک ہو گا۔اس صورت میں بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں پڑ سکتا بلکہ یہ تحریک ہے کہ مرد کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنی بیوی کی نیکی کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور عورت کو اپنی نیکی کے ساتھ اپنے خاوند کی نیکی کا بھی