تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 365 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 365

گے۔یا یہ کہ جو پھل آخرت میں ملیں گے ان کی شکل تو آپس میں ملتی جلتی ہو گی مگر مزہ میں فرق ہو گا۔پہلے معنوں کی کمزوری مَیں پہلے بیان کر چکا ہوں دوسرے معنی بالبداہت باطل ہیں کیونکہ پھل ہی دیئے جائیں گے تو انہیں ایک شکل میں دینے کا کیا فائدہ۔پھر مزہ کے مختلف ہونے کا ثبوت کہاں سے ملا؟ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاکے چار معنے میرے نزدیک اس کے صحیح معنے یہ ہیں (۱) جنتی پھل اپنی لذت کے لحاظ سے ان عبادات کی لذتوں کے مشابہ ہوں گے کہ جو مومن اس دنیا میں کرتے رہے ہیں یعنی مومن ان پھلوں کو کھا کر محسوس کرے گا کہ یہ وہی نماز ہے جو میں نے پڑھی تھی ، یہ وہی روزہ ہے جو میں نے رکھا تھا ،یہ وہی حج ہے جو میں نے کیا تھا، یہ وہی صدقہ ہے جو میں نے دیا تھا ،یہ وہی عفو ہے جس سے میں نے اپنے دشمن سے معاملہ کیا تھا۔غرض تمام نیک اعمال ایک ایک کر کے ان کے لئے جنت میں متمثل ہوں گے اور ان کے دل خدا تعالیٰ کے شکر سے بھرتے جائیں گے کہ میری فلاں نماز بھی اس نے نہیں بھلائی۔میرا فلاں صدقہ بھی اس نے نہیں بھلایا۔غرض ہر ہر پھل میں وہ خدا تعالیٰ کی قدردانی کو محسوس کرینگے اور انہیں وہ لذت یاد آ جائےگی کہ جو اس دنیا میں اس نیک عمل کے بجا لاتے وقت ان کو حاصل ہوئی تھی۔وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاسے مراد مومنوں کے اعمال کے مشابہ لذتیں رکھنے والے پھل ان معنوں کو مدِّنظر رکھتے ہوئے مومنوں کو اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کرنا چاہیے جو اعمال صالحہ کے بجا لاتے وقت ان پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہماری نماز جنت میں پھل کی شکل میں آنے والی ہے ہمارا صدقہ پھل کی شکل میں سامنے آنے والا ہے تو ہمیں اپنی نماز اور اپنے صدقہ کو درست کرنا چاہیے کیونکہ جیسی ہماری نماز اور جیسا ہمارا روزہ ہو گا اسی قسم کے مزہ کا وہ پھل ہو گا جو ہمیں جنت میں ملے گا۔اگر ہم اپنے اعمال کو پوری دلجمعی اور شوق سے بجا نہیں لاتے تو ہم اپنی روحانی غذا کو جو ہمیں جنت میں ملنے والی ہے دوسروں سے کم لذیذ بناتے ہیں اور اگر ہم اپنے صدقہ اور اپنے عفو اور خدمت خلق کو اور عبادت کو ٹھیک کرتے ہیں تو گویا اپنی روحانی غذا کو لذیذ بناتے ہیں۔کیونکہ اس غذا کی لذت ہماری اس لذت کے مشابہ ہو گی جو اس وقت ہم نیک اعمال میں محسوس کرتے ہیں۔وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاسے مراد متشابہ خاصیتوں کا رزق دوسرے معنے اس جملہ کے یہ ہیں کہ جو رزق جنتیوں کو ملے گا وہ متشابہ خاصیتو ںکا ہو گا یعنی اس دنیا میں تو جو غذا انسان کھاتا ہے وہ بسا اوقات ایک دوسرے کے اثر کو باطل کرنے والی ہوتی ہے۔ایک چیز معدہ کے لئے مقوی اور دوسری مضعف۔ایک چیز دل کے لئے اچھی دوسری بری۔ایک دماغ کو طاقت دینے والی دوسری کمزو رکرنے والی ہوتی ہے۔اس طرح بہت سی غذا آپس میں ٹکرا