تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 336
فرماتا ہے۔اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ۔اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ۔اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ(الطور:۳۶تا۳۸) یہاں پر بھی دولت اور حکومت اور طاقت و قدرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ان تحدّیوں میں مطالبہ خزائن کے جواب میں قرآن کریم کو بطور خزانہ پیش کیا گیا ہے سورۃ ہود کی آیت سے پہلے بھی لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ (ھود:۱۳)آیا ہے۔سورۂ بنی اسرائیل میں تحدی کے بعدآیا ہے وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا۔اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا۔اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا۔اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ (بنی اسرائیل:۹۱تا۹۴)اس جگہ بھی مال و دولت اور طاقت و قوت کا ہی ذکرہے۔غرض چاروں جگہ پر ایک ہی قسم کا مطالبہ بیان ہوا ہے یا مطالبہ کا ذکر نہیں۔لیکن مطالبہ کا جواب دیا گیا ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ خزانوں کے سوال اور مطالبہ مثل میں کوئی گہرا تعلق ہے۔اور وہ یہی تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو خزانہ قرار دیا ہے اور مخالفین کے خزانہ کے مطالبہ کا یہ جواب دیا ہے کہ اُس کا اصل خزانہ قرآن کریم ہے اور لَوْلَا اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ کا بھی یہی جواب دیا ہے کہ ملائکہ ظاہری مقابلوں کے لئے نہیں اُترتے بلکہ کلام الٰہی لے کر اُترا کرتے ہیں اور وہ اس پر نازل ہو چکا ہے۔پس یہ کہنا کہ اس پر ملک نہیں اُترا یا یہ کہ اُترنا چاہیے بے معنی قول ہے اور ایسی چیز کا مطالبہ ہے جو پہلے سے حاصل ہے۔پھر چونکہ ملائکہ کا اُترنا یا روحانی خزانہ کا حصول بظاہر ایک دعویٰ معلوم ہوتا ہے جس کا ثبوت نہیں اس کے لئے خود قرآنِ کریم کے بے مثل ہونے کو پیش کیا ہے کہ یہ اپنی صداقت کی آپ دلیل ہے اور اس کے اندر ایسے دلائل موجود ہیں جو اسے لاثانی خزانہ اور منجانب اللہ کلام ثابت کرتے ہیںاور یہ جو فرق کیا ہے کہ جس جگہ زیادہ کلام کا مطالبہ ہے اس جگہ کفار کی طرف سے خزانوں یا مَلک کا مطالبہ ہے اور جس جگہ تھوڑے کلام کی مثل کا مطالبہ ہے اس جگہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا یہ کفاّر خزانوں کے مالک اور قانونِ قدرت کے متولیّ ہیں؟ سو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن مقامات پر پورے قرآن یا دس سورتوں کا مطالبہ ہے اس جگہ سوال ایسا ہے جو کفار کے ذہن میں آ سکتا تھا اور موٹا تھا۔پس ان کے سوال کو پیش کر کے اس کا جواب دے دیا گیا ہے لیکن بعض پہلو قرآن کریم کے بے مثل ہونے کے ایسے رہ جاتے ہیں جن کے متعلق سوال کرنے کا بھی کفار کو خیال نہیں آ سکتا تھا اگر ان کابیان کرنا بھی کفار کے سوالات پر منحصر رکھا جاتا تو وہ پہلو پوشیدہ ہی رہتے۔اس لئے ان پہلوئوں کو قرآن کریم نے خود سوال پیدا کر کے بتا دیا اور اس طرح قرآن کریم کی تکمیل کے