تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 335
لے آنا کافی ہے تو سارے قرآن کی مثل لانے کے لئے کیوں کہیں؟؟ تحدّی والی سورتوں کے زمانہ نزول کا مختلف ہوناثابت نہیں میرا اپنا یہ خیال ہے کہ اس میں ترتیب نکالنے کی ضرورت نہیں۔اوّل تو اِن میں سے بعض سورتیں ایسے قریب قریب کے زمانہ کی نازل شدہ ہیں کہ ان کی صحیح ترتیب کا پتہ لگانا مشکل ہے۔دوسرے قرآن کریم کی تنزیل اس طرح نہیں ہوئی کہ ایک وقت میں ایک ہی سورۃ نازل ہوئی ہوبلکہ قریب قریب نازل ہونے والی سورتیں بعض دفعہ ایک ہی وقت میں تین تین چار چار نازل ہوتی جاتی تھیں اور اِن میں سے ایک کو پہلی کہنا اور دوسری کو بعد کی کہنا اس لحاظ سے تو گو درست ہو کہ ایک کی آخری آیت پہلے اور دوسری کی آخری آیت پیچھے نازل ہوئی ہو لیکن ایک کی سب آیتوں کے متعلق کہنا کہ یہ پہلے نازل ہوئی ہیں اور دوسری کی سب آیتوں کے متعلق یہ کہنا کہ یہ پیچھے نازل ہوئی ہیں درست نہیں ہو سکتا پس میرے نزدیک ان آیتوں میں ایسے مطالبات ہیں جو ترتیب نزول کے حل کرنے کے محتاج نہیںہیں اور سب کے سب ایک ہی وقت میں آج بھی اس طرح پیش کئے جا سکتے ہیں جس طرح کہ زمانہ نزول میں پیش کئے جا سکتے تھے۔تحدّی مثل کے ساتھ اکثر جگہ مال و دولت اور طاقت کا ذکر پیشتر اس کے کہ میں ان مختلف تحدّیوں کی تشریح کروں جو ان آیات میں مذکور ہیں۔میں اس عجیب بات کی طرف توجہ پھرانی چاہتا ہوںکہ یہ چیلنج جس جس جگہ کے لئے ہیں اُن کے ساتھ ہی مال و دولت اور طاقت و قدرت کا بھی ذکر آیا ہے سوائے سورہ بقرہ کے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کوئی نیا چیلنج نہیں ہے بلکہ سورۃ یونس کے چیلنج کو سورۃ بقرہ کے مضامین کی ضرورت کے لحاظ سے دہرایا گیا ہے (سورۃ یونس مکی ہے اور سورۃ بقرہ مدنی ہے) اس لئے اس میںاس ذکر کو غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دیا گیا ہے اس کے سوا باقی سب سورتوں کو دیکھ لو۔سب میں مال و دولت یا طاقت و قدرت کا ذکر ہے سورۃ یونس میں اس مطالبے سے چند آیات پہلے آیا ہے۔قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ يُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَ مَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(یونس:۳۲)گویا دعویٰ کیا ہے کہ سب خزانے اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں خواہ وہ رزق کے ہوں یا قوائے طبعیہ کے یا قوائے عملیہ کے ہوں یا مختلف قوتوں کو ایک نظام میں لانے کے متعلق ہوں۔اور پھر اس کے بعد فرمایا قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ۔قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآىِٕكُمْ مَّنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ يَهْدِيْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ يَّهْدِيْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ يُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا يَهِدِّيْۤ اِلَّاۤ اَنْ يُّهْدٰى ١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ۔(یونس:۳۵،۳۶)اس میں بھی طاقت و قوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔پھر سورۃ طور میں تحدّی کے بعد