تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 337

سب پہلوئوں کو روشن کر دیا۔فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔تمام تحدّیوں پر تفصیلی نظر اب میں تفصیل کے ساتھ ایک ایک مطالبہ کو الگ الگ لے کر بتاتا ہوں کہ کس طرح اِن آیات میں قرآن کریم کی مختلف خوبیوں کے مقابلہ کی دعوت دی گئی ہے اورہر جگہ کے مناسب حال زیادہ یا کم کلام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔سب سے بڑا مطالبہ سارے قرآن کی مثل لانے کا ہے۔سورۃ بنی اسرائیل والی تحدّی اور یہ سورۃ بنی اسرائیل میں ہے اس مطالبہ میں یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ جس کلام کو منکر پیش کریں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف بھی منسوب کریں بلکہ جائز ہے کہ اُن کا پیش کردہ کلام مفتریات میں سے نہ ہو اور ان کا صرف یہ دعویٰ ہو کہ گو ہم نے یہ کلام خود بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے لیکن یہ کلام قرآن کریم کی مثل یااس سے بڑھ کر ہے۔چونکہ مثل کی حد بندی بھی ضروری تھی کہ وہ کلام کس امر میں مثل ہو۔اس لئے اس کی تشریح بھی خود کر دی اور فرمایا کہ وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ٞ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا(بنی اسرائیل:۹۰) اس کلام میں ہر پہلو سے لوگوں کے فائدہ کے لئے ہر اک ضروری دینی امر پر روشنی ڈالی گئی ہے لیکن پھر بھی بہت سے لوگ اس کے انکار پر مصر ہیں۔یہی چیز ہے جس میں مثل کا مطالبہ کیا گیا ہے اگر فی الواقع وہ اس کلام کو انسانی کلام سمجھتے ہیں تو ان چار خوبیوں والا کلام پیش کریں جو اپنی خوبیوں میں قرآن کریم کے برابر ہو (۱) اس میں ہر ضروری دینی مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہو یعنی اعتقادات۔فلسفۂ اعتقادات۔صفاتِ باری اور فلسفۂ ظہور صفاتِ باری۔علمِ کلام۔عبادات۔فلسفۂ عبادات۔علم ِاخلاق۔فلسفۂ اخلاق۔معاملات۔فلسفۂ معاملات۔مدنیّت۔اقتصادیات۔سیاسیات کا جو حصہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا فلسفہ معاد اور اس کے متعلق تمام امور وغیرہ وغیرہ۔سب امور ضرور یہ پر اس میں روشنی ڈالی گئی ہو (۲) وہ بحث جو ان امور کے متعلق کی گئی ہو َسیر ُکن ہو نہ صرف وسعت کے رُو سے احاطہ ہو یعنی سب علوم کے متعلق کچھ نہ کچھ بحث ہو بلکہ حق کی گہرائی کا بھی احاطہ ہو اور ہر مسئلہ کے ہر پہلو کو پیش کر کے اس میں ہدایت دی گئی ہو (۳) وہ تمام تعلیم باوجود اپنی وسعت اور باریکی کے مضرت رساں نہ ہو بلکہ اس میں نفع ہی نفع ہو۔(۴) اس میں کسی ایک قوم یا طبقہ کے فائدہ کو مدِّنظر نہ رکھا گیا ہو بلکہ تمام بنی نوع انسان کی فطرت کو مدنظر رکھا گیا ہو اور ہر قسم کی طبیعت او رہر قسم کے حالات اور ہر درجہ اور ہر فہم کے انسان کے متعلق اس میں ہدایت موجود ہو۔بجائے مطالبہ کی صورت کے پیشگوئی کی صورت میں تحدّی چونکہ قرآن کریم ابھی مکمل نہیں ہوا تھا اس لئے یہ نہیں فرمایا کہ تم ابھی اس کی مثل لے آئو بلکہ یہ فرمایا ہے کہ نہ لا سکو گے یعنی نہ اس کی موجودہ حالت میں اور