تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 329
کیونکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کفار <mark>کہتے</mark> ہیں کہ ہمیں تو اس قرآن نے شکوک میں ڈال دیا ہے <mark>ان</mark> کے اس دعویٰ کے جھوٹا ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے لئے فرمایا کہ اگر تم کو قرآن کی وجہ سے شک ہوا ہے تو ایسا ایسا کرو یعنی تمہارا یہ دعویٰ کہ قرآن کی وجہ سے شک پڑ گیا ہے غلط ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ عربی کا محاورہ ہے کہ اِنْ کُنْتَ عَبْدِیْ فَاَطِعْنِیْ اگر تو میرا غلام ہے تو <mark>میری</mark> اطاعت بھی کر۔یہ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ میں تو آپ کا غلام ہوں۔اس کے جواب میں وہ شخص جس کی غلامی کا دعویٰ قائل کرتا ہے کہتا ہے کہ اِنْ کُنْتَ عَبْدِیْ فَاَطِعْنِیْ یعنی تو اپنے اس قول میں کہ تو میرا غلام ہے جھوٹا ہے اگر سچا ہے تو پھر <mark>میری</mark> اطاعت بھی کر لیکن جبکہ تو اطاعت نہیں کرتا تو معلوم ہوا کہ صرف منہ سے غلامی کا دعویٰ کرتا ہے۔کفار کے اس دعویٰ کا ابطال کہ قرآن کریم نے <mark>ان</mark>ہیں شکوک میں ڈال دیا ہے اسی مفہوم میں یہاں اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور مراد یہ ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ تم کو قرآن کریم نے شک میں ڈال دیا ہے جھوٹا ہے اگر سچا ہے توپھر اس کا ثبوت اس طرح تم دے سکتے ہو کہ ایسی ہی ایک سورۃ بنا کر پیش کرو لیکن اگر تم ایسی سورۃ کے ل<mark>ان</mark>ے کی کوشش بھی نہ کرو تو معلوم ہوا کہ تمہارا یہ دعویٰ کہ قرآن کریم نے تم کو شکوک میں ڈال دیا ہے باطل ہے اور صرف دفع الوقتی کے طور پر ہے ورنہ جو کلام اس قدر گندہ اور خراب ہو کہ اس سے دلوں میں شکوک پیدا ہو جاتے ہیں اس کی مثل تو ایک بچہ بھی لا سکتا ہے کجا یہ کہ تمام کفار اور <mark>ان</mark> کے <mark>ان</mark>صار مل کر بھی اس کی مثل نہ لا سکیں بلکہ اس کی کوشش تک کی جرأت نہ کر سکے ہوں پس <mark>ان</mark> کے عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹے ہیں۔مخالفین کے اس اعتراض کا جواب کہ قرآن مجید میں دوسری کتب کی تعلیمات موجود ہیں اعتراض کرنا سہل ترین کام ہے جو کوئی شخص اپنے مدِّمقابل کے خلاف کر سکتا ہے۔صداقت کے منکر ہمیشہ اعتراضوں تک ہی اپنے حملہ کو محدود رکھتے ہیں۔کبھی کوئی ٹھوس کام مقابل پر نہیں کرتے جس سے <mark>ان</mark> کے جوہر بھی ظاہر ہوں اور <mark>ان</mark> کے اعتراض کی حقیقت بھی ظاہر ہو۔یہی حال قرآن کریم کے منکروں کا تھا۔وہ قرآن کریم پر اعتراض تو کرتے تھے لیکن اس کے مقابل پر کوئی تعلیم ایسی پیش نہ کرتے تھے جو اس سے برتر تو الگ رہی اس کے برابر بھی ہو۔آج تک قرآن کریم کے مخالفوں کا یہی حال رہا ہے مسیحی مصنف قرآن کریم پر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں لیکن آج تک اس مطالبہ کو پورا کرنے کی جرأت نہیں کر سکے کہ اس کی مثل لائیں۔وہ <mark>کہتے</mark> ہیں کہ قرآن کریم نے <mark>ان</mark>جیل کا فلاں مسئلہ چرا لیا ہے۔تو رات سے فلاں بات اڑا لی ہے زرد شتی کتب سے فلاں تعلیم اخذ کر لی ہے لیکن یہ جرأت نہیں کہ <mark>ان</mark>جیل، تورات اور زردشتی کتب میں سے مضامین لے کر خود کوئی کتاب ایسی بنا دیں جو قرآن کریم جیسی