تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 328
کرتا بلکہ ریب کو ہمیشہ اس چیز کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جس سے شک پیدا ہوا ہو مثلاً یہ تو کہیں گے کہ اَشُکُّ فِیْ ذَالِکَ میں اس معاملہ میں شک کرتا ہوں مگر یہ نہیں کہیں گے کہ اُرِیْبُ فِیْہِ بلکہ یوں کہیں گے رَابَنِیْ یَا اَرَابَنِیْ ھٰذَا الْاَمْرُ اس بات نے مجھے شک میں ڈال دیا ہے۔غرض کفار نے صرف قرآن کریم کے دعویٰ کے بارہ میں شک کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس سے بڑھ کر یہ اظہار کیا ہے کہ (۱) قرآن کریم نے ہمارے شکوک کیا دور کرنے تھے اس کے مضامین کی وجہ سے تو ہمارے دلوں میں بعض اور صداقتوں کے بارہ میں بھی جن کو ہم پہلے مانتے تھے شکوک پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں اور اس کتاب نے بجائے شک دور کرنے کے ہمارے دلوں میں شکوک پیدا کر دئے ہیں (۲) ہم پہلے تو محمد رسول اللہ کے دعویٰ کو قابلِ غور سمجھتے تھے اور اس پر غور کرنے پر تیار تھے لیکن جوں جوں قرآن نازل ہوا ہمارے دلوں میں اس کے مضامین کی وجہ سے اس کے دعویٰ کے بارہ میں شکوک کا سلسلہ بڑھنا شروع ہو گیا گویا وہ قرآن پر دو اعتراض کرتے ہیں ایک یہ کہ اس کے مضامین اس غرض کو پورا نہیں کرتے جس کے لئے یہ نازل ہوا ہے۔دوم یہ کہ اگر اسے مانا جائے تو کئی صداقتوں کو چھوڑنا پڑتا ہے اور بجائے صداقت کی طرف لے جانے کے یہ اور کئی صداقتوں سے دور کر دیتا ہے۔مِمَّانَزَّلْنَا کی ترکیب علاّمہ اَبوُ البقاء مِمَّا نَزَّلْنَا کی ترکیب دو طرح کرتے ہیں۔ایک تو یہ کہ یہ رَیْب کی صفت ہے یعنی تم ایسے رَیْب میں پڑ گئے ہو جو ہمارے بندے پر اُتارے گئے کلام سے پیدا ہوا ہے اور اس کی یوں تشریح کرتے ہیں کہ فِیْ رَیْبٍ کَائِنٍ مِنَ الَّذِیْ نَزَّلْنَا اور دوسرا مقام اس کا یہ بتاتے ہیں کہ مِـمَّا نَزَّلْنَا ریب کا متعلق ہے اور معنے یہ ہیں کہ فِیْ رَیْبٍ مِنْ اَجْلِ مَانَزَّلْنَا یعنی ایسے شک میں ہو جو ہمارے اتارے ہوئے کلام کے سبب سے پیدا ہوا ہے۔علامہ ابو حیان اپنی تفسیر بحر محیط میں اس آیت کے ماتحت لکھتے ہیں۔وَ ’’مِنْ‘‘ یَحْتَمِلُ اِبْتَدَاءَ الْغَایَۃِ وَالسَّبَبِیَّۃِ۔مِنْ کے معنے اس جگہ یہ ہیں کہ مَا نَزَّلْنَا سے شک پیدا ہوا ہے یا یہ کہ مَا نَزَّلْنَا شک کا باعث ہوا ہے۔خلاصہ اوپر کے حوالوں کا یہ ہے کہ مِمَّا کے الفاظ نے اس امر پر دلالت کی ہے کہ جس شک کا ذکر اوپر ہوا ہے وہ قرآنِ کریم پر اعتراض کرنے والوں کے نزدیک قرآنِ کریم سے پیدا ہوا تھا اور ان کا یہ اعتراض اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ہمیں تو قرآن کریم نے قلق اور اضطراب میں ڈال دیا ہے۔اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ کے الفاظ شک پر دلالت نہیں کرتے اس آیت میں جو اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں یہ شک پر دلالت نہیں کرتے بلکہ کفار کے اعتراض کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتے ہیں