تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 330
جامع ہو۔شہد پر انسان اعتراض تو آسانی سے کر سکتا ہے کہ مکھیوں نے پھولوں سے خوشبو اُڑا لی۔پھلوں میں سے مٹھاس چرا لی۔مگر بات تو تب ہے کہ ویسا شہد بنا کر دکھا دے۔اچھی چیزوں کو مختلف جگہوں سے اڑا کر کوئی نئی اور اعلیٰ چیز بنا دینا بھی تو ایک کمال ہے اگر یہ آسان بات ہے تو معترض ویسا ہی کام کر کے کیو ںنہیں دکھا دیتے؟ مگر یہ جواب بطور تنزل ہے ورنہ قرآن کریم کا دعویٰ یہ ہے کہ اس میں وہ سب صداقتیں بھی موجود ہیں جو پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں چنانچہ فرماتا ہے فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ(البینة:۴) اس میں سب قائم رہنے والی صداقتیں جو زمانہ کے لحاظ سے منسوخ کرنے کے قابل نہ تھیںموجود ہیں اور اس کے علاوہ فرماتا ہے وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (البقرة:۱۵۲) یعنی یہ رسول تم کو وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم پہلے نہ جانتے تھے۔یعنی اس کی تعلیم صرف انہی اچھی تعلیمات پر مشتمل نہیں جو پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں بلکہ اس سے زائد اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جو پہلے دنیا کو معلوم نہ تھیں۔اسی طرح فرماتا ہے فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (البقرة :۲۴۰) یعنی جب تم امن میں آ جائو تو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے یاد کرو جو خدا تعالیٰ نے اس قرآن کریم کے ذریعہ سے تم کو سکھائی ہیں اور جن کا علم اس سے پہلے تم کو حاصل نہ تھا اِس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ قرآن کریم میں صفات الٰہیہ کا ایسا زائد علم دیا گیا ہے جو اس سے پہلے دنیا کو حاصل نہ تھا۔اسی طرح فرماتا ہے کہ قرآن کریم میں بعض متشابہات ہیں یعنی ایسے امور ہیں جو پہلی کتب سے ملتے جلتے ہیں۔اور بعض محکمات ہیں یعنی ایسے امور ہیں کہ جو دوسری کتب کے علاوہ ہیں اور فرماتا ہے هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ (آل عمران :۸)وہی اس کتاب کی ماں ہیں یعنی وہی اس کے نزول کا سبب ہیںاسی طرح فرماتا ہے يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ(الرعد:۴۰) یعنی کفار اعتراض کرتے ہیں کہ یہ شخص پہلی کتب کے خلاف تعلیم لایا ہے اور یہ اس کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔تُو ان سے کہہ دے کہ ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت پورا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس تعلیم کے بعض حصوں کو جو اسے دی گئی تھی مٹا دیتا ہے اور بعض حصے رہنے دیتا ہے اور اس کے پاس وہ احکام محفوظ ہیں جو اس کے زمانہ کے لئے ضروری ہیں اور جو نئے نبی کو دیئے جاتے ہیں۔پس ان کا اعتراض فضول ہے۔پہلی کتب کے مفید حصوں کو بھی ہم نے لے لیا اور ان کے علاوہ وہ نئی تعلیم جو پہلے زمانہ کے مناسب حال نہ تھی اور اسی زمانہ کے مناسب حال تھی وہ بھی تجھ کو عطا کر دی۔قرآن مجید میں پہلی کتب کی تعلیمات کے علاوہ اور زبردست محکم تعلیمات خلاصہ یہ کہ قرآن کریم پہلی کتب کی مفید تعلیم اخذ کرنے کا تو خود اقرار کرتا ہے مگر وہ اس کے علاوہ اور اس سے زائد نئی تعلیمات کے پیش کرنے کا بھی دعویٰ دار ہے پس صرف چند متشابہ باتو ں کو پیش کر کے اعتراض کرنا خلافِ دیانت ہے جسے دعویٰ ہو کہ