تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 323

غلطی پر سے پردہ اُٹھا دیا اور صاف کہہ دیا کہ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ (فاطر:۲۵) یعنی ہر قوم میں خدا تعالیٰ کے نبی گزر چکے ہیں۔ہندوستان میں بھی اور ایران میں بھی اور کنعان میں بھی اور عرب میں بھی۔اور ان ممالک کے مذاہب کے پاس جو کتب ہیں وہ سب خدائے واحد کی نازل کردہ تھیں۔اس حقیقت کو نہ سمجھ کر ایک غلط عقیدہ کی بناء پر ایک تاریخی نتیجہ نکال لینا ایک صریح ظلم ہے۔قوم کے ناواقفوں یا مذہبی تعصب رکھنے والوں کی رائے پر حقائق کی بنیاد نہیں رکھی جاتی بلکہ اصل صداقت سے نتائج نکالے جاتے ہیں۔اگر اس طرح بعض جاہلوں کی غلطیوں پر بنیاد رکھ کر صداقتیں معلوم کرنے کی کوشش کی جائے تو دنیا میں اندھیر پڑ جائے اور علم کی جگہ جہالت لے لے۔مجھے تعجب آتا ہے ان لوگوں پر جو موسیٰ کے بعد ایک ترقی پذیر یَہوواہ کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ موسیٰ سے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کا وجود گذر چکا ہے۔ان کی نسل سے ایک قوم عرب کی مکہ میں بستی تھی وہ عقیدتاً یہود کے خلاف تھی اور خطرناک مشرک تھی کعبہ جیسے مقام میں جو توحید کا مرکز تھا اس نے بتوںکی ایک فوج رکھ چھوڑی تھی بیرونی تہذیب کے اثر سے وہ بالکل غیر متاثر تھی۔ان میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کی وہ قوم جانی دشمن تھی ببانگ بلند یہ دعویٰ کیا کہ ان کے دادا ابراہیم مو ّحد تھے مشرک نہ تھے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے۔مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (البقرہ :۱۳۶) ابراہیم مشرک نہ تھے بلکہ خالص موحد تھے مگر ان مشرکوں میں سے ایک بھی نہ بولا کہ ابراہیم تو مشرک تھے۔باوجود شرک میں مبتلا ہونے کے وہ اس امر کو تسلیم کرتے تھے کہ ابراہیم علیہ السلام مشرک نہ تھے اور ایک بت کی نسبت بھی ان کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ ابراہیم علیہ السلام اُس کی پوجا کیا کرتے تھے۔ایسی مشرک قوم کا ابراہیم کی نسبت تسلیم کرنا کہ وہ مشرک نہ تھے اور قرآن کریم کے بار بار اعلان کی کہ ابراہیم مشرک نہ تھے تردید نہ کرنا جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے بتاتا ہے کہ عربو ںکا یہ عقیدہ تھا کہ ابراہیم مشرک نہ تھے بلکہ مو ّحد تھے اور ان کی قدیم روایات اسی امر کی تصدیق کرتی تھیں اور ایسی قدیم روایات خصوصاً ایسی قوم کی جو بیرونی دنیا کے خیالات سے متأثر نہ ہوئی تھی ایک زبردست ثبوت ہے اس امر کا کہ موسیٰ ؑکے ظہور سے پہلے ایک خدا کا وجود دنیا میں مانا جاتا تھا اور موسیٰ علیہ السلام کے آباء میں مانا جاتا تھا۔پھر اس حقیقت کی موجودگی میں یہ کہنا کہ ایک خدا کا وجود یہود میں جو حضرت ابراہیمؑ کے صدیوں بعد ہوئے اور اُن کی اولاد ہونے کا دعویٰ کرتے تھے پایا نہ جاتا تھا اور ایک یُہوواہ نامی دیوتا کے ڈر سے جس کی نسبت ان کا خیال تھا کہ وہ بڑا غیوّر ہے انہوں نے دوسرے دیوتائوں کو چھوڑ کر اس کی عبادت شروع کر دی اور اس طرح ایک خدا کا خیال پیدا ہوا کیسا بودا استدلال ہے۔خلاصہ یہ کہ ایک خدا کا عقیدہ جسے ان آیات میں پیش کیا گیا ہے کسی مشرکانہ عقیدہ کی ارتقائی کڑی نہیں بلکہ