تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 324

ایک حقیقت ہے جس پر وہ دلائل و براہین جو اوپر بیان کئے گئے ہیںشاہد ہیں اور تاریخ اور تمام غیر مہذب اقوام کے حالات اس پر گواہ ہیںکہ توحید کا عقیدہ ہی اصل اور پرانا عقیدہ ہے اور شرک صرف قوموں کے زوال کی حالت میں پیدا ہوا ہے اور ابتدائی انسانی عقیدہ نہیں ہے۔میں ان فلسفیوں کی محنت کے نتائج کا بالکل منکر نہیں۔اُن کی اِن تحقیقاتوں کو اس حد تک مان سکتا ہوںکہ انہوںنے شرک کے اسباب کو ایک حد تک دریافت کیا ہے اور جن اقوام میں شرک پھیلا ہے ان کے خیالات میں تنزل جس جس وجہ سے ہوا اس کی انہوں نے ایک حد تک تحقیق کی ہے مگر اس تحقیق سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شرک ایک خدا کے خیال کا موجب تھا بالکل درست نہیں اور ویسی ہی غیرمعقول چھلانگ ہے جیسے کہ انسانی نسل کے ارتقاء کی نسبت انہو ںنے لگائی ہے اور دوسرے حیوانات اور انسان کی بناوٹ کی مناسبتوں اور ان کے باہمی اختلافات اور ان کے اور انسان کی بناوٹ کے اختلافات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان حیوانات کی زنجیر کی آخری کڑی ہے۔جس طرح پیدائش کے ارتقاء کی ایک غائب کڑی کو نظر انداز کر کے انہوں نے غلط نتیجہ نکال لیا ہے اسی طرح اس بارہ میں بھی ایک غلط نتیجہ نکال لیا ہے اگر وہ اپنی تحقیق کا نام شرک کے اسباب کی دریافت رکھتے تو یہ ایک حد تک معقول ہوتا اور ان کے خیالات سے ہمیں جس حد تک کہ ان کا نتیجہ درست اور معقول ہوتا۔اتفاق ہوتا۔وَ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ اور اگر اس (کلام) کے سبب سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا ہے تم کسی(قسم کے) شک میں (مبتلا) ہو مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۲۴ تو اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ۔اور اگر تم سچے ہو تو اپنے غیر اللہ مددگاروں کو (بھی اپنی مدد کے لئے) بلا لو۔حَلّ لُغَات۔رَیْبٌ۔رَیْب کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۳۔نَزَّلْنَا: نَزَّلَ (جو نَزَلَسے باب تفعیل ہے) سے جمع متکلمّ کا صیغہ ہے۔اور نَزَّلَہٗ کے معنے ہیں صَیَّرَہٗ نَازِلًا۔اس کو اُترنے والا کر دیا۔یعنی اس حالت میں کر دیا کہ وہ اُترے۔اور نَزَّلَ الْقَوْمَ کے معنے ہیں اَ نْزَلَھُمُ الْمَنَازِلَ لوگوں کو ان کی جگہوں پر اُتارا۔نَزَّلَ الشَّیْءَ۔رَتَّبَہٗ کسی چیز کو مرتّب کیا۔نَزَّلَ الْعِیْرَ۔قَدَّرَ لَھَا الْمَنَازِلَ قافلہ کے امام نے قافلہ کے لوگوں کے لئے جگہیں مقرر کر دیں۔تَنْزِیْلٌ اصل میں آہستہ آہستہ اتارنے کو کہتے ہیں