تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 322

وہ اس غیر مادی۔سب پر حاکم خدا کی پرستش یا تو کرتے ہی نہیں یا سب سے کم کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پہلے کسی وقت ان میں توحید کا خیال رائج تھا اس کے بعد مشرکانہ خیالات پیدا ہو گئے اور جھوٹے خدائوں نے ان کے دل میں سچے خدا کی جگہ لے لی اور توحید کے بعد شرک کا دور دَورہ ہوا۔خلاصہ یہ کہ اگر الہام کا وجود تسلیم کیا جائے اور بوجہ ہر زمانہ میں اس کا ثبوت ملنے کے اس کا انکار ایسا ہی ہے جیسے کہ سورج کا انکار کر دیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ توحید کا خیال ابتدا سے تھا اور شرک کا خیال قومی زوال کا نتیجہ ہے۔دوسرے یہ کہ تاریخ اس امر پر شاہد ہے کہ تاریخی زمانہ کی اقوام میں توحید کا خیال شرک کے خیالات سے پہلے کا ہے جس سے ماننا پڑتا ہے کہ جن اقوام کی تاریخ معلوم نہیں ان میں بھی توحیدشرک سے پہلے تھی۔تیسرے یہ کہ قدیم اقوام کے جو نمونے اس وقت دنیا میں ملتے ہیں ان میں بھی ایک بڑے اور غیرمرئی خدا کا وجود پایا جاتا ہے مگر اس کی عبادت ان میں مفقود ہے جس سے معلوم ہوا کہ توحید کا خیال پہلا ہے اور شرک کے خیالات بعد کے ہیں تبھی پہلا خیال بعد کے خیالات سے دَب گیا۔شرک کو توحید سے پہلے سمجھنے والے فلسفیوں کا غلط خیال اور اس کا ازالہ ان فلسفیوں کو اس غلط خیال کی طرف ایک اور چیز نے بھی راہنمائی کی ہے۔مَیں اس کا بھی ازالہ کردینا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بائبل اور دوسری کتب میںانہوں نے جب یہ پڑھا کہ ہمارے قبیلہ کا خدا ایسا ہے اور ویسا ہے تو یہ نتیجہ نکالا کہ گو ایک خدا کا وجود ان میں پایا جاتا ہے مگر یہ خیال قبائلی خدا کے خیال سے ترقی پا کر بنا ہے حالانکہ یہ غلطی محض اس لئے لگی ہے کہ اسلام سے پہلے تمام مذاہب ایک ایک قوم کی طرف آتے تھے اور چونکہ وہ قبائلی مذاہب ہوتے تھے اپنی بول چال میں وہ لازماً ہمارے خدا اور ان کے خدا کے الفاظ بولتے تھے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مذاہب الہامی نہ تھے بلکہ یہ محاورات محض اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ مختلف اقوام کے مذاہب بھی مختلف تھے۔جاہل لوگ جو مذہب کی اس حقیقت سے ناواقف تھے یہ خیال کرتے تھے کہ جس خدا نے ہمیں مذہب عطا کیا ہے وہ اور ہے اور دوسروں کا خدا اور ہے حالانکہ خدا ایک ہی تھا صرف مختلف اقوام کے لحاظ سے اس نے ہر قوم کی ضرورت کے لحاظ سے مختلف تعلیم دی تھی اور یہ محاورات خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ تھے بلکہ قومی اختلافات سے دھوکہ کھا کر لوگوں نے ایسا سمجھا لیا تھا۔یہووا ہ وہی تھا جو ہندوستان میں برہما یا پرم ایشور کہلاتا تھا اور جو ایران میں یزدان کہلاتا تھا۔مختلف ناموں کی وجہ سے اور مختلف تعلیمات کی وجہ سے ان مذاہب کے جاہل پیروئوں نے ان کو الگ الگ خدا سمجھ لیا۔مگر مذاہب کے بعض ناواقف ماننے والوںکی غلطی سے یہ نتیجہ ہر گز نہیں نکالا جا سکتا کہ ایک خدا کا وجود ان میں نہ تھا۔اسلام نے اس