تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 305
ہیں جو زیادہ شاندار ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم نے وہی مضمون ایک لفظ میں ادا کر دیا ہے جو مسیحؑ نے ایک فقرہ میں بیان کیا ہے کیونکہ قرآن کریم کہتا اُعْبُدُوْا عبادت کرو اور عبادت کے معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بیان کیا گیاہے غَایَۃُ التَّذَلُّلِ کے ہیں یعنی اپنی سب طاقتوں کو انتہائی درجہ پر خرچ کرنا۔پس عبادت میں سارا دل بھی اور ساری جان بھی اور ساری سمجھ بھی اور اس کے سوا ساری قوت بھی اور سارے اسباب بھی شامل ہیں اور اس ایک لفظ سے قرآن کریم نے وہ سب کچھ بیان کر دیا ہے۔جو حضرت مسیح ناصری بیان کرنا چاہتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔(ذات باری کے متعلق ایک نوٹ اگلی آیت کے بعد دیکھو) الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونے اور آسمان کو چھت کے طور پربنایا ہے اور بادلوں سے مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا پانی اتارا ہے۔پھر اس (پانی )کے ذریعہ سے میووں کی قسم کا رزق تمہارےلئے نکالا ہے تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۳ پس تم سمجھتے بوجھتے ہوئے اللہ کے ہمسر نہ بناؤ۔حَلّ لُغَات۔اَ لْاَرْضُ۔اَ لْاَرْضُ کرّۂز مین۔کُلُّ مَاسَفَلَ۔ہر نیچے کی چیز (اقرب) فِرَاشًا۔فِرَاشًا فَرَشَ الشَیْ ءَ (یَفْرُشُ) فَرْشًا وَّفِرَاشًا کے معنے ہیں۔بَسَطَہٗ کسی چیز کو پھیلایا۔کہتے ہیں فَرَشَ فُـلَانٌ بِسَاطًا۔بَسَطَہٗ لَہٗ اس کے لئے غالیچہ بچھایا۔اور اَلْفِرَاشُ کے معنے ہیں مَا یُفْرَشُ وَ یُنَامُ عَلَیْہِ جو بچھایاجائے اور اس پر سویا جائے (اقرب)۔اَلْفَرْشُ کے معنے ہیں بَسْطُ الثِّیَابِ کپڑوں کا پھیلانا وَیُقَالُ لِلْمَفْرُوْشِ فَرْشٌ وَ فِرَاشٌ اور بچھائی ہوئی چیز کے لئے فِرَاشٌ اور فَرْشٌ کا لفظ بولتے ہیں۔قَالَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا۔اَیْ ذَلَّلَھَا وَلَمْ یَجْعَلْہَا نَائِیَۃً لَایُمْکِنُ الْاِسْتِقْرَارُ عَلَیْہَا اور آیت ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا میں