تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 304
محبت پیدا کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔وہ حسین ہے کیونکہ ربّ ہے کیسا اعلیٰ درجہ کا صَنَّاع ہے کہ ایک چیز کو نہایت ادنیٰ حالت میں پیدا کرتا ہے پھر درجہ بدرجہ ترقی دے کر کمال تک پہنچا دیتا ہے۔پھر احسان کو کس لطیف طورپر پیش کیا کہ وہ تمہارا بھی حسن ہے اور تمہارے ماں باپ کا بھی۔پھر جہاں لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں خوف کی طرف اشارہ کیا مستقبل کے احسان کی طرف بھی توجہ دلائی۔اس قدر چھوٹی سی آیت میں اس قدر وسیع مطالب کا بیان کرنا کیسا معجزانہ کلام ہے فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح ناصری سے سوال کیا گیا کہ سب سے بڑا حکم شریعت میں کونسا ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا کہ خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری سمجھ سے پیار کر پہلا اور بڑا حکم یہی ہے اور دوسرا اس کی مانند ہے کہ تو اپنے پڑوسی کو ایسا پیار کر جیسا آپ کو‘‘ (متی باب ۲۲ آیت ۳۷ تا ۳۹) لیکن انجیل کو پڑھ کر دیکھ لو اس میں پہلے اور باتیں بیان کی گئی ہیں اس حکم کا نام و نشان نہیں بلکہ جو سب سے بڑا اور پہلا حکم تھا مسیح ناصری نے بیان ہی نہیں کیا جب تک لوگوں نے سوال نہیں کیا حالانکہ اہمیت کے لحاظ سے پہلے اس حکم کو بیان کرنا چاہیے تھا جو سب سے بڑا ہے پُرانے عہد نامہ کو دیکھو تو اس میں بھی اس حکم کو کہیں بعد میں جا کر بیان کیا گیا ہے پہلے اِدھر اُدھر کی باتیں لکھی گئی ہیں یہی حال دوسری کتب کا ہے کوئی ایک مذہبی کتاب نہیں جس میں اس حکم کو جو نہ صرف مسیح علیہ السلام کے قول کے مطابق بلکہ عقل کے مطابق بھی سب سے بڑا اور سب سے پہلا ہے پہلے جگہ نہیں دی گئی۔یہ فضیلت صرف قرآن کریم کو حاصل ہے کہ اس نے سب سے پہلا حکم جو قرآن کریم میں بیان کیا ہے یہی ہے کہ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ(البقرۃ:۲۲) کیا یہ قرآن کریم کی فضیلت نہیں کہ اس نے پہلے حکم کو پہلی جگہ دی ہے جبکہ دوسری تمام کتب نے اس پہلے حکم کو پیچھے ڈال دیا ہے۔اگر حکم کے لفظ پر زور نہ دیا جائے تو اس سے بھی پہلے جہاں متقیوں کے عمل کا قرآن کریم نے ذکر کیا ہے وہاں يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ فرمایا ہے جس کے معنے یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان لائو اور اس کی عبادت کرو اور اس کے بعد اس حکم کو جسے مسیح علیہ السلام نے دوسرے درجہ پر رکھا ہے بیان کیا ہے کہ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ اس بارہ میں بھی قرآنِ کریم کی تعلیم فائق ہے کیونکہ مسیح نے تو صرف دل کی حالت کی طرف اشارہ کیا ہے اور قرآن کریم نے جامع الفاظ رکھے ہیں اور وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَکہہ کر فرمایا ہے کہ اپنی دلی محبت بھی اپنے ہمسائیوں کو دے اور اپنا علم بھی اور اپنا مال بھی اور اپنی جان بھی۔غرض ان دونوں احکام کو اسلام نے ان کے مناسب حال جگہ دی ہے اور مسیح کے الفاظ سے زیادہ شاندار الفاظ میں۔اگر کوئی کہے کہ مسیح نے تو سارے دل اور ساری جان اور ساری سمجھ کے الفاظ استعمال کئے