تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 293

وہ مراد ہے۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ اس آیت کے شروع میں فرمایا ہے۔كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِيْهِ الخ کا مطلب کہ قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائیوںکو اچک کر لے جائے مگر ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ جب بجلی ان کے لئے دنیا کو روشن کر دیتی ہے تو یہ چل پڑتے ہیں یعنی اس وقت یہ اپنے آپ کو مطمئن پاتے ہیں اور مسلمانو ںکے ساتھ مل کر کام کرنے لگ جاتے ہیں پس جبکہ روشنی کے وقت وہ اچھے ہو جاتے ہیں اور نقصان کی بجائے فائدہ اٹھاتے ہیں تو بجلی کے ان کی بینائیوں کو اُچک لے جانے کا کونسا موقع ہوا؟ اگر کہا جائے کہ اس کا موقع وہ ہے جب وہ نہیں چمکتی اور اندھیرا ہو جاتا ہے تو یہ عقل کے خلاف ہے کیونکہ جب بجلی نہ چمکے تو وہ بینائیو ںکو ضائع نہیں کر سکتی۔پس معلوم ہوا کہ اس جگہ اندھیرے سے مراد معنوی اندھیرا ہے یعنی تکالیف اور مصائب کی شدّت اور بجلی کے ساتھ مصائب اور شدائد کی نسبت اس وقت ہوتی ہے جبکہ وہ گر کر ہلاک کرتی ہے پس مطلب آیت کا یہ ہے کہ جب بجلی صرف یہ اثر ظاہر کرے کہ روشنی کرے گرے نہیں تب تو یہ لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں اور مسلمانو ںکے ساتھ چل پڑتے ہیں مگر جب بجلی ظلمات پیدا کر دے یعنی صاعقہ کی صورت اختیار کر کے موت اور ہلاکت کا دروازہ کھول دے تب یہ لوگ ڈر کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔حصہ آیت وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ الخ کی تشریح وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان کے نفاق کی وجہ سے ان کی شنوائی کو بھی زائل کر دے اور بینائیوں کو بھی۔حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ ذَھَبَ بِہٖ کے معنے دُور کر دینے اور ضائع کر دینے کے بھی ہوتے ہیں اور یہی معنے اس جگہ چسپاں ہوتے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی شنوائی کو بھی برباد کر دے اور بینائیو ںکو بھی۔یعنی اب تک تو ان کو یہ توفیق حاصل ہے کہ یہ قرآن سن کر اس پر ایمان لے آتے ہیں لیکن اگر یہ حالت رہی تو بالکل ممکن ہے کہ ان کا یہ ایمان بھی جاتا رہے اور قرآن کریم کو سن کر ان کے دل میںکوئی ایمان نہ پیدا ہو۔اسی طرح اگر یہ حالت لمبی چلی تو خطرہ ہے کہ ان کی بینائیاں بھی جاتی رہیں یعنی بوجہ بار بار صاعقہ کے نزول کے اور آفات اور مصائب کے آنے کے یہ مسلمانوں کا بالکل ساتھ چھوڑ دیں اور اب تو یہ حالت ہے کہ روشنی کے وقت مسلمانوں کے ساتھ مل جاتے ہیں پھر یہ حالت ہو جائے کہ روحانی بینائی کے ضائع ہو جانے کے سبب سے ایسے مواقع پر بھی ان کو مسلمانوں کا ساتھ دینے کی توفیق نہ ملے اور یہ کلیّ طور پر مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ دیں۔یہ آیت مشکل آیات میں سے ہے اور جن لوگوں نے اس کی تفسیر کی ہے مجملاً کی ہے۔الگ الگ حصو ںکا کلی تطابق نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں نے اس کی اس طرح وضاحت کر دی ہے کہ اس کے ہر حصہ کا الگ الگ