تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 292
اور نہیں چاہتا کیونکہ یہ امور اس کی ذات کے لئے نقص ہیں خوبیاں نہیں۔قَدِیْرٌ۔قَدِیْرٌ مبالغہ کا صیغہ ہے۔قَدَرَ عَلَیْہِ (یَقْدِرُ) قَدْرًا وَ قُدْرَۃً کے معنے ہیں قَوِیَ عَلَیْہِ کسی چیز کے کرنے پر طاقت پائی اور اَلْقُدْرَۃُ کے معنے ہیں۔اَلْقُوَّۃُ عَلَی الشَّیْ ءِ وَالتَّمَکُّنُ مِنْہُ کسی چیز کے کرنے پر طاقت حاصل کرنا یا کسی پر قابو پا لینا قدرت کہلاتا ہے (اقرب) مفردات میں ہے کہ جب قُدْرَۃ کا لفظ انسان کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اس کو کسی چیز کے کرنے کی طاقت حاصل ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو اس سے مراد ہر قسم کی کمزوری و عاجزی کی نفی ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے قدرت مطلقہ کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو پوری قدرت حاصل نہیں۔صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ایسی ذات ہے جسے پوری پوری قدرت ہر بات پر حاصل ہے۔قَدِیْرکے معنی کے ماتحت لکھا ہے ھُوَ الْفَاعِلُ لِمَا یَشَاءُ عَلٰی قَدْرٍ مَا تَقْتَضِی الْحِکْـمَۃُ لَا زَائِدًا عَلَیْہِ وَلَا نَاقِصًا عَنْہُ یعنی اپنی چاہی ہوئی بات کو اندازے پر جس کا حکمت تقاضا کرتی ہے بغیر کمی یا بیشی کے کرنے والا قَدِیْر کہلاتا ہے۔قَدِیْر مبالغہ کا صیغہ ہے اور کثرت و عظمت پر دلالت کرتا ہے۔عام طورپر بڑا قادر اور بہت قادر سے اس کا ترجمہ ہوتا ہے لیکن اردو میں جب اس کا مفعول بھی بیان کیا گیا ہو تو بڑا یا بہت کے الفاظ استعمال نہیں ہو سکتے بلکہ یہ مفہوم پورا پورا یا پوری طرح کی قسم کے الفاظ سے ادا کیا جاتا ہے۔تفسیر۔آیت یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ کی تشریح اس میں بتایا گیا ہے کہ قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائیوں کو اُچک لے جائے یعنی بار بار صاعقہ کی حالت پیدا ہو توان کے ایمان بالکل ضائع ہو جائیں لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سامان پیدا کیا گیا ہے کہ کبھی تو بجلی صرف روشنی کا کام دیتی ہے یعنی صرف شوکت اسلام کے ظہور کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اس موقع پر یہ مسلمانوں کے ساتھ آشامل ہوتے ہیں مگر کبھی اس کے ساتھ صاعقہ بھی نازل ہوتی ہے اور اس وقت ان کی نگہ میں دنیا تاریک ہو جاتی ہے۔اور یہ وہیں دبک کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مسلمانو ںکاساتھ دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ بجلی کی دو کیفیتوں کا الگ الگ اثر ان منافقو ںپر ہوتا ہے۔جب صرف روشنی ہو تب اور اثر ہوتا ہے اور جب اس کے ساتھ موت اور ہلاکت ہو تو اور اثر ہوتا ہے۔الفاظ آیت سے ظاہر ہے کہ روشنی اور تاریکی دونوں بجلی کا فعل ہیں کیونکہ جس طرح اَضَاءَ کی ضمیر برق کی طرف راجع ہے اسی طرح اَظْلَمَکی ضمیر بھی برق کی طرف راجع ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ روشنی تو بجلی سے ظاہر ہوتی ہے مگر بجلی سے اندھیرا نہیں ہوا کرتا۔پس اس جگہ اندھیرے سے مراد ظاہری اندھیرا نہیں بلکہ اس کے گرنے کے اثر کے نتیجہ میں جو تباہی اور ہلاکت پیدا ہوتی ہے