تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 294
بھی اور دوسرے حصوں کے ساتھ مل کر بھی مضمون واضح ہو جاتا ہے اور کوئی اِغلاَق نظر نہیں آتا۔کیا عملی منافقین کا وجود محال ہے بعض لوگ شبہ کرتے ہیں کہ عملی منافق کا وجود قرآنِ کریم سے ثابت نہیں اور یہ کہ دوسری مثال بھی اعتقادی منافقوں کے متعلق ہے چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جب ہم حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّل رضی اللہ عنہ سے قرآن کریم پڑھا کرتے تھے تو حافظ روشن علی صاحب مرحوم جو ہماری جماعت کے بڑے پایہ کے عالم تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو قرآن کریم کے مضامین کے اخذ کرنے کا خاص ملکہ دیا تھا (اللہ تعالیٰ ان پر اپنی برکات نازل فرمائے اور ان کی رُوح کو اپنے قرب میں جگہ دے) اکثر حضرت خلیفۃ المسیحؓ سے بحث کیا کرتے تھے کہ عملی منافق کا وجود عقلاً محال ہے۔منافق اسی کو کہتے ہیں کہ جس کا عقیدہ خراب ہو مگر علاوہ اس کے کہ ان آیات کا مفہوم بتاتا ہے کہ ان میں عملی منافقوں کا ذکر ہے۔عملی منافقین کا ذکر حدیث میں مجھے اس بارہ میں ایک حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مل گئی ہے جس میں عملی منافقوں کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ حدیث یہ ہے عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْقُلُوْبُ اَرْبَعَۃٌ قَلْبٌ اَجْرَدُ فِیْہِ مِثْلُ السِّـرَاجِ یَزْھَرُ وَ قَلْبٌ اَغْلَفُ مَرْبُوْطٌ عَلٰی اَغْلَافِہٖ وَ قَلْبٌ مَنْکُوْسٌ وَقَلْبٌ مُصَفَّحٌ فَاَمَّا الْقَلْبُ الاَجْرَدُ فَقَلْبُ الْمُؤْمِنِ سِرَاجُہٗ فِیْہِ نُوْرُہٗ وَ اَمَّا الْقَلْبُ الْاَغْلَفُ فَقَلْبُ الْکَافِرِ وَ اَمَّا الْقَلْبُ الْمَنْکُوْسُ فَقَلْبُ الْمُنَافِقِ عَرَفَ ثُمَّ اَنْکَرَ وَ اَمَّا الْقَلْبُ الْمُصَفَّحُ فَقَلْبٌ فِیْہِ اِیْمَانٌ وَنِفَاقٌ فَمَثَلُ الْاِیْمَانِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْبَقْلَۃِ یَمُدُّھَا الْمَاءُ الطَّیِّبُ وَمَثَلُ النِّفَاقِ فِیْہِ کَمَثَلِ الْقَرْحَۃِ یَمُدُّ ھَا الْقَیْحُ وَ الدَّ مُ فَاَیُّ المَدَّتَیْنِ غَلَبَتْ عَلَی الْاُخْرٰی غَلَبَتْ عَلَیْہِ (مسند احمد بن حنبل مسند ابی سعید خدری ) یعنی انسانی دل چار قسم کے ہوتے ہیں ایک مُصَفّٰی شفاف تلوار کی طرح سُتا ہوا خدمتِ دین کے لئے تیار اور دوسرا وہ دل ہوتا ہے کہ اس پر غلاف چڑھاہوا ہوتا ہے اور غلاف بھی وہ جو خوب بندھا ہوا ہو اور تیسرا وہ دل جو اوندھا رکھا ہوا ہو اور چوتھا وہ دل جو ٹیڑھا رکھا ہوا ہو یا پتھروں کے نیچے دبا ہوا ہو۔وہ جو پہلا دل ہے یعنی صاف وہ تو مومن کا دل ہے اس کا دیا وہ نور ہے جو اس کے دل میں پیدا ہے۔اور وہ دل جو غلافوں میں بند ہے کافر کا دل ہے (کہ صداقت اس کے اندر نہیں جاتی اور کفر باہر نہیں نکلتا) اور اوندھا رکھا ہوا دل منافق کا دل ہے جو پہلے صداقت کو مان لیتا ہے پھر اس کا ایمان ضائع ہو جاتا ہے اور وہ دل جو ٹیڑھا رکھا ہوا ہے یا پتھروں میں دبا ہوا ہے وہ اس شخص کا دل ہے جس میں ایمان اور نفاق دونو ںپائے جاتے ہیں اس کے ایمان کی حالت تو اچھی سبزی کے مشابہ ہے جسے پاک پانی مل رہا ہو اور اس کے نفاق کی حالت ایک زخم کی سی ہے جسے پیپ