تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 271
نسبت سمجھتے تھے کہ ان میں تقویٰ نہیں ہمارے استہزاء کے عذر پر بُرا نہ منائیں گے بلکہ بوجہ عداوت خود بھی اسے پسند کریں گے اور خوب خوش ہوں گے کہ ہمارے ساتھیوں نے مسلمانوں کو بیوقوف بنایا۔منافقوں کی یہ بے ساختہ شہادت مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق اور کفاّر کی تقویٰ سے دُوری کی عجیب مؤثر شہادت ہے۔يَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ کا مطلب وَ يَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ۔یَمُدُّ۔مَدَّسے نکلا ہے جس کے معنے مہلت دینے کے ہیں۔(تاج العروس و قاموس زیر لفظ مَدَّ) صاحب تفسیر روح المعانی زجاج اور ابن کیسان نے بھی یہی معنے کئے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی یہی مروی ہے۔سورۃ انعام میں فرمایا۔نَذَرُهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ (الانعام:۱۱۱)جس سے مہلت دینے کے معنوں کی تائید ہوتی ہے۔پس اس آیت کے یہ معنے ہوئے کہ باوجود ان کی شرارتوں کے خدا تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ سنبھل جائیں مگر وہ طغیان میں بڑھتے جاتے ہیں۔یہ معنے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کفار کو ُطغیان میں زیادہ کرتا ہے۔اس بات کو سورۃ فاطر ع ۴ میں خوب حل کر دیا ہے کہ مہلت گمراہ کرنے کے لئے نہیں دی جاتی بلکہ اس لئے کہ جو چاہیں اس عرصہ میں توبہ کر لیں۔جیسا کہ فرمایا اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا يَتَذَكَّرُ فِيْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِيْرُ (فاطر:۳۸)یعنی کیا ہم نے تم کو اس قدر عمر نہ دی تھی کہ جس میں نصیحت پکڑنے والا نصیحت پکڑ لیتا ہے اور تمہارے پاس ڈرانے والے بھی آئے۔مگر تم نے نہ ڈھیل سے فائدہ اٹھایا نہ نذیر سے۔اس سے ثابت ہوا کہ مہلت جو کفار کو ملتی ہے وہ گمراہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہدایت پانے کے لئے ملتی ہے۔یَعْمَھُوْنَکی تشریح یَعْمَھُوْنَ۔عَمَہُ سے نکلا ہے جو رستہ میں علامات اور نشانات نہ ہونے کو کہتے ہیں۔اور اس کے تین معنے مستعمل ہیں۔(۱) متحیر، حیران ہونا (۲) رشد سے اندھا ہونا (۳) سر نیچے کر لینا اور جو آگے سے آ رہا ہے اُسے نہ دیکھنا۔یہاں یہ مراد ہے کہ منافقین جن شرارتوں میں پڑے ہوئے ہیں بلا سوچے سمجھے انہی میں بڑہتے جاتے ہیں۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى ١۪ فَمَا رَبِحَتْ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کو اختیار کر لیا پس ان کا سودا