تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 272
تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ۰۰۱۷ نفع مند نہیں ہوا اور نہ انہوں نے ہدایت پائی۔حل لغات۔اِشْتَرَوْا۔اِشْتَرَوْا اِشْتَریٰ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اِشْتَرَاہُ کے معنے ہیں مَلَکَہٗ بِالْبَیْعِ کسی چیز کا خرید کے ذریعہ سے مالک ہو گیا۔بَاعَہٗ نیز اس کے معنے ہیں اس کو بیچا یعنی یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔اور متضاد معنے دیتا ہے خریدنے کے بھی اور بیچنے کے بھی۔وَکُلُّ مَنْ تَرَکَ شَیْئًا وَ تَمَسَّکَ بِغَیْرِہٖ فَقَدِ اشْتَـرَاہُ۔ہر وہ شخص جو ایک چیز کو چھوڑ کر کسی دوسری چیز کو اس کی بجائے اختیار کر لے اس پر اِشْتَرٰی کا لفظ بولیں گے۔گویا اس نے ایک چیز دے کر دوسری لے لی۔(اقرب) عام طور پر شَرَا کسی چیز کو خرید نے اور لفظ بَیْع کسی چیز کے بیچنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن جب سامان کو سامان کے بدلہ میںتبادلہ کیا جائے تو دونوں لفظ ایک دوسرے کی جگہ استعمال کر لیا کرتے ہیں۔لیکن لفظ شَرَا اور اِشْتَرٰی کا استعمال اس طرح بھی جائز ہے کہ جو شخص ایک چیز کو ترک کر دے اور دوسری کو اختیار کرے تو اس کی نسبت کہیں گے کہ شَرَا ہُ یا اِشْتَرَاہُ (مفردات) اَلضَّلٰـلَۃُ۔اَلضَّلٰـلَۃُ ضَلَّ یَضِلُّ کے معنے ہیںضِدُّ اِھْتَدٰی یعنی ہدایت کے خلاف حالت پر ہو گیا اور دین اور حق نہ پایا۔ضَلَّ عَنْہُ یَضِلُّ۔لَمْ یَھْتَدِ اِلَیْہِ اس طرف راہ نہ پائی۔ضَلَّ یَضَلُّ (ضاد کی زبر سے) فُـلَانٌ اَلطَّرِیْقَ وَعَنِ الطَّرِیْقِ : لَمْ یَھْتَدِ اِلَیْہِ راستہ نہ پایا۔جب دار یا منزل یا ہر اپنی جگہ پر قائم رہنے والی چیز کا اس کے بعد ذکر ہو تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں۔ضَلَّ الرَّجُلُ فِی الدِّیْنِ ضَلَا لًا وَضَلَالَۃً۔ضِدُّ اِھْتَدٰی۔اس شخص نے دین کے معاملہ میں درست راہ نہ پائی۔ضَلَّ فُـلَانٌ الفَرَسَ فلاں شخص نے اپنا گھوڑا گم کر دیا۔ضَلَّ عَنِّیْ کَذَا۔ضَاعَ مجھ سے فلاں چیز ضائع ہو گئی۔ضَلَّ الْمَائُ فِی اللَّبَنِ۔خَفِیَ وَغَابَ پانی دودھ میں مل گیا اور غائب ہو گیا۔ضَلَّ فُـلَانٌ فُـلَانًا۔نَسِیَہٗ اس شخص کو بھول گیا۔ضَلَّ النَّاسِیْ : غَابَ عَنْہُ حِفْظُ الشَّیْ ءِ۔بھول گیا۔اس کے ذہن سے بات نکل گئی۔ضَلَّ سَعْیُہٗ۔عَمِلَ عَمَلًا لَمْ یَعُدْ عَلَیْہِ نَفْعُہٗ ایسا کام کیا کہ جس کا اسے کوئی نفع نہ ہوا۔(اقرب) مزید تشریح کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۷۔اَلْھُدٰی۔اَلْھُدٰی کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۳۔رَبِحَتْ تِّجَارَتُہٗ رَبِحَتْ تِّجَارَتُہٗ کے معنے ہیں رَبِحَ فِیْھَا کہ تاجر نے اپنی تجارت میں نفع اٹھایا (اقرب)