تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 270
قرآنِ کریم میں مستعمل ہے اور مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے استہزاء کی انہیں سزا دے گا۔(اس کی تفصیل کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت ۴و۱۰)۔قرآن کریم کی تعلیم اس بارہ میں صاف ہے کہ اللہ تعالیٰ استہزاء سے کام نہیں لیتا۔چنانچہ اسی سورۃ کے (ع ۸) میںحضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں فرمایا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے شرک کی عادات کو چھڑانے کے لئے ایک خاص گائے قربان کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا أَ تَتَّخِذُ نَا ھُزُوًاکیا آپ ہم سے ٹھٹھا کرتے ہیں؟ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ جواب نقل کیا گیا ہے اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ جاہلوں میں شامل ہو جائوں یعنی استہزاء کرنا تو جاہلوں کا کام ہے اور میں تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہوں کہ جاہل نہ بنوں میں کس طرح استہزاء کر سکتا ہوں؟ پس جس پاک ہستی کی مدد سے بندے استہزاء سے بچتے ہیں اس کی طرف استہزاء کی نسبت قرآنی تعلیم کے مطابق کس طرح جائز ہو سکتی ہے؟ علاوہ ازیں استہزاء جھوٹ کو کہتے ہیں یعنی کہا کچھ جائے اور دل میں کچھ اور مراد ہو۔اور اس سے مخاطب کی تذلیل مراد ہو۔مگر اللہ تعالیٰ کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا (النساء :۱۲۳) یعنی اللہ تعالیٰ سے سچا اور کون ہو سکتا ہے؟ اسی طرح ہنسی مذاق کرنے والا شخص لغو گو ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام قرآن کریم حکیم رکھتا ہیں یعنی جس کی ہر بات میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی نسبت استہزاء کا لفظ محض ان معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ وہ منافقوں کو ان کے استہزاء کی سزا دے گا۔ان معنوں کے علاوہ یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت جو لفظ استعمال ہو وہ ان معانی سے جُدا ہو جاتا ہے جو بندہ کی نسبت استعمال ہونے کی صورت میں اس میں پائے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی نسبت بولنے کا لفظ بولا جائے تو یہ معنی نہیں کہ اس کی زبان اور ہونٹ ہیں جن کو اس نے ہلایا بلکہ صرف یہ معنے ہیں کہ بولنے کا جو نتیجہ ہوتا ہے یعنی الفاظ کا پیدا ہونا وہ اس نے اپنی قدرت سے پیدا کر دیا۔اللہ کی نسبت آتا ہے۔لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ (الشورٰی :۱۲) پس اس تاویل کے رو سے اللہ تعالیٰ کے استہزاء کرنے کے یہ معنے ہوں گے کہ استہزاء کا نتیجہ اس نے ان کے حق میں پیدا کر دیا یعنی انہیں ذلیل کر دیا اور لوگوں کی نظروں میں قابل مضحکہ بنا دیا۔یہ لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مومنوں کے سامنے منافقوں نے یہ کہا کہ ہم ہنسی کرنے والے ہیں۔یہ ان کی فطرت کی شہادت ہے کہ مومن کیسے ہیں اور کافر کیسے ہیں؟ مومنوں کی نسبت وہ جانتے تھے کہ کافروں سے ہنسی کرنے کا عذر بھی قبول نہ کریںگے اور اسے بھی بُرا منائیں گے اس لئے ان کے سامنے اصلاح کا عذر پیش کیا۔مگر کافروں کی