تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 259 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 259

صورتِ حالات کو بھانپ لیا تھا اور اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تھے۔منافقین کا کفار عرب کو مسلمانوں کے خلاف اکسانا کبھی کفار کو مسلمانوں کے خلاف جوش دلاتے جیسا کہ فرماتا ہے۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نَافَقُوْا يَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَىِٕنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِيْعُ فِيْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ (الحشر:۱۲) یعنی کیا تجھے ان منافقوں کا حال معلوم ہے کہ وہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں کو جاکر اُکساتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم کو مدینہ سے نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی مدینہ چھوڑ جائیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات نہ سنیں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر مسلمانوں سے لڑیں گے لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جب اہل کتاب کو جلا وطن کیا گیا تو وہ لوگ ساتھ نہ نکلے۔اورجب ان سے لڑائی ہوئی تو انہوں نے ان کا ساتھ نہ دیا۔کیونکہ ان کی اصل غرض تو مسلمانوں کے خلاف فساد پھیلانا تھی۔اِسی طرح ایک فساد کا طریق یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ(النساء:۸۴)جب کوئی امن یا خوف کی بات ان کو معلوم ہو جائے تو اسے خوب پھیلاتے ہیں تاکہ مسلمانوں میں فساد پیدا ہو جائے۔خوف کی بات تو اس لئے کہ مسلمان ڈریں اور امن کی بات اس موقعہ پر کہ جب دیکھیں کہ بعض مسلمان اس صلح پر خوش نہیں تو ایسے موقعہ پر وہ مسلمانوں کو جوش دلانے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ اس طرح صلح کر کے ہم کو ذلیل کیا جا رہا ہے۔غرض منافق طرح طرح سے ملک میں فساد پیدا کرتے تھے اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اس طرح فساد پیدا کرنے سے کیا فائدہ ؟ایسا نہ کرو۔تو وہ یہ جواب دیتے کہ ہم تو صرف اصلاح کی خاطر یہ سب کام کرتے ہیں۔یہ بھی منافقوں کی ایک علامت ہے کہ اپنے گندے اعمال کو چھپانے کے لئے ہمیشہ اپنے اعمال کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا بہانہ بنا لیتے ہیں کہ جس سے ان کے اعمال بظاہر نیک نظر آئیں۔کسی موقعہ پر غریبوں کی امداد کا بہانہ ، کسی موقعہ پر مسلمانوں کو تباہی سے بچانے کا بہانہ۔غرض اپنی بدنیتی کو نیک نیتی کے پردہ میں چھپانے کی کوشش ہمیشہ ان کی طرف سے ہوتی رہتی ہے۔اور اگر وہ یہ نہ کریں تو اپنی نفاق کو چھپائیںکس طرح؟ ہر قوم اور ہر ملک کے منافق اسی طرح کرتے ہیں اور جن قوموں کی تباہی کے دن آجاتے ہیں وہ ان کے دھوکے میں آ کر سچے خیرخواہوںکو چھوڑ دیتی ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کو ان کے دھوکے سے بچایا اور ان کی شرارتیں انہی کے سروںپر الٹ پڑیں۔منظم جماعتوں میں منافقوں کا گروہ ضروری ہوتا ہے کیونکہ جب تنظیم نہ ہو تو منافقت کرنے کی ضرورت کم