تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 258

سے مراد ملک یا علاقہ کے ہیں کیونکہ جن منافقوں کا ذکر ہے ان کے اعمال ساری دنیا پر حاوی نہ تھے بلکہ ملک عرب یا اس کی سرحدوں تک محدود تھے۔منافقوں کا فساد کئی رنگ میں ظاہر ہوتا تھا (۱) وہ مہاجرین اور انصار میں فساد ڈلوانے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور قومی سوال کو اپنے بد اغراض کو پورا کرنے کے لئے آڑ بناتے رہتے تھے چنانچہ غزوہ بنی مصطلق کے موقعہ پر جب ایک معمولی سی بات پر مہاجرین اور انصار میں کچھ اختلاف پیدا ہو گیا تو عبداللہ بن ابی بن سلول نے جو اس وقت ساتھ تھا اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شور مچا دیا کہ یہ مہاجر باہر سے آ کر ہم پر حکومت کرنا چاہتے ہیں تم لوگوں نے ان کو سر پر چڑھا رکھا ہے اگر ان کی مدد نہ کرو تو وہ خود ہی تترّ ِبترّ ہو جائیں گے (سیرت ابن ہشام۔غزوہ بنی المصطلق جھجاہ و سنان و ماکان من ابن أبیّ) چنانچہ اس قول کا ذکر قرآن کریم میں یوں ہے۔هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا (المنافقون :۸) یہ منافق ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ یہ لوگ جو محمد رسول اللہ کے ساتھ جمع ہیں ان پر اپنے روپے نہ خرچ کیا کرو تاکہ یہ تتر بتر ہو جائیں۔اور جب عبداللہ بن ابی بن سلول نے دیکھا کہ انصار جوش میں آ گئے ہیں تو جڑ پر تبر چلانا چاہا۔یعنی خود رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی اور کہہ دیا۔لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ (المنافقون :۹) یعنی ہمیں مدینے پہنچ لینے دو وہاں مدینہ کا سب سے بڑا آدمی (یعنی خود عبداللہ بن ابی) اس کے سب سے ذلیل آدمی کو (یعنی نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفسی و روحی کو) وہاں سے نکال دے گا۔منافقین کے آنحضرت ؐ کے اعمال پر اعتراضات کبھی یہ لوگ قومی گنہگاروں کی پیٹھ ٹھونکتے تھے کہ تا وہ جوش میں آ کر اسلام سے برگشتہ ہو جائیں کبھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے اعمال پر معترض ہوتے تاکہ لوگوں میں بد دلی پھیلائیں جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے۔وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ (التوبۃ :۵۸) یعنی ان منافقوں میں سے وہ بھی ہیں جو تیری صدقات کی تقسیم پر معترض ہوتے ہیں۔اس سے ان کی غرض یہ ہوتی تھی کہ جن کو صدقہ میں سے مال نہ ملا ہو ان میں بد دلی پیدا ہو۔اسی طرح آپ کے متعلق اعتراض کرتے کہ هُوَ اُذُنٌ (التوبۃ :۶۱) وہ تو کان ہی کان ہے یعنی اس نے تو چاروں طرف جاسوس چھوڑ رکھے ہوئے ہیں کوئی آدمی آزادی سے اپنے خیالات ظاہر نہیں کر سکتا۔کبھی مشکلات کے وقت مسلمانوں میں بد دلی پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِيْبَةٌ يَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ (التوبۃ :۵۰) یعنی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مخلصین صحابہ کو کوئی نقصان جنگ میں پہنچتا تو کہتے کہ دیکھا یہ ہمارے مشورہ پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے ہم نے پہلے ہی