تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 260

ہی ہوتی ہے لیکن جب ایک جماعت منظم ہو تو اسے چھوڑنا کمزور دل لوگوں کے لئے مشکل ہو جاتا ہے اس لئے وہ ایک طرف تو اپنی جماعت سے بھی تعلق بنائے رکھتے ہیں اور دوسری طرف ُخفیہ ُخفیہ اس کے مخالفوں سے بھی ساز باز شروع کر دیتے ہیں۔جماعت احمد یہ چونکہ ایک منظم جماعت ہے اسے اس خطرہ کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔منافقوں کا وجود اس میں پایا جانا اس کی کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس کی تنظیم کا ثبوت ہے۔ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ منافقوں کی چالوں کو جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہیں سمجھے اور انہیں مدِّنظر رکھ کر منافقوں کو پہچانے اور ان سے وہی معاملہ کرے جو قرآن کریم نے تجویز کیا اور ان کے ہتھکنڈوںمیں نہ آئے کہ وہ شیطان کی طرح خیر خواہ بن کر ہی حملے کیا کرتے ہیں۔اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ۰۰۱۳ سنو یقیناًیہی لوگ فساد کرنے والے ہیں مگر(اس حقیقت کو) سمجھتے نہیں۔حَلّ لُغَات۔اَ لَا کے معنے چوکس اور ہوشیار کرنے کے ہوتے ہیں نہ کہ دھمکی دینے کے۔پس خبردار کی بجائے ’’سنو‘‘ کا لفظ رکھا گیا ہے۔جو ہوشیار کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔وَلٰـکِنْ۔عربی میں واؤ اور لٰـکِنْ دو لفظ عطف کئے ہیں۔اور ایک دوسرے کی تاکید کرتا ہے۔اردو میں اس کی جگہ ’’ہاں مگر‘‘ یا ’’مگر‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔یَشْعُرُوْنَ۔یَشْعُرُوْنَ کے لئے دیکھو حَلّ لُغات سورۃ البقرۃ آیت۱۰۔تفسیر۔منافقوں کے اس قول سے کہ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ اِس طرف اشارہ تھا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں مگر وہ لوگ جن کو سچا مسلمان کہا جاتا ہے فساد کرتے ہیں کیونکہ اِنَّمَا حصر کے لئے آتا ہے۔اور جب کوئی شخص کہے کہ میں ہی ایسا ہوں تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ میرے سوا دوسرے لوگ ایسے نہیں ہیں۔پس ان کے جواب میں قرآن کریم میں ایسا ہی فقرہ استعمال فرمایا کہ اَ لَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ یعنی سننے والے سن چھوڑیں کہ منافق ہی تو فساد کرنے والے ہیں اور الزام دوسروں کو دیتے ہیں۔پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ منافق قسم قسم کے فساد کرتے تھے مگر اپنے مفسدانہ اعمال کی کوئی نہ کوئی نیک توجیہ پیش کر دیا کرتے تھے لیکن نیک توجیہ بُرے کام کو اچھا نہیں بنا دیتی۔اگر کوئی شخص کسی جماعت کے نظام یا عقیدہ سے خوش نہ ہو تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ اُس سےجدا ہو جائے نہ کہ اس میں رہ کر اس میں فساد پیدا کرنے کی کوشش کرے۔