تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 20
منسوب کرے تو وہ بہرحال درست ہے کیونکہ کسی صحابی پر جھوٹ کا الزام ثابت نہیں ہوتا۔اگر انسؓ نے رسول کریم صلعم کی طرف یہ قول منسوب فرمایا ہے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ آپؐ نے کسی مہاجر صحابی سے یہ روایت سنی ہے اور جب صحابی تک روایت پہنچ گئی تو اس کے سچا ہونے میں شبہ نہ رہا۔بسم اللہ کے قرآن کے ایک حصہ ہونے کے متعلق احناف کا خیال احناف کے متعلق جو بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیںکہ وہ بسم اللہ کو گویا قرآن کریم کا حصہ نہیں سمجھتے یہ غلط ہے۔امام ابو حنیفہ ؒ کا یہ مذہب نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ آیت مستقل آیت ہے اور سورۃ کا حصہ نہیں۔امام ابوبکر رازی جو حنفیوں کے اَئمہ سے ہیں اپنی کتاب احکام القرآن جزء اوّل میں لکھتے ہیں۔وَلَمَّا ثَبَتَ اَنَّہَا لَیْسَتْ مِنْ اَوَائِلِ السُّوَرِوَ اِنْ کَانَتْ آیَۃً فِیْ مَوْضِعِہَا عَلٰی وَجْہِ الْفَصْلِ بَیْنَ السُّوْرَتَیْنِ اُمِرْنَا بِا لْاِبتِدَائِ بِہَا تَبَرُّکًا۔ترجمہ۔اس وجہ سے کہ یہ ثابت ہو گیاہے کہ یہ آیت کسی سورۃ کا حصہ نہیں گو دو سورتوں کا فاصلہ بتانے کے لئے ایک مستقل آیت کے طور پر اُتاری گئی ہے۔ہمیں اس کے ساتھ نماز شروع کرنے کا حکم بطور تبرک کے دیا گیا ہے۔پس یہ محض ناواقفوں کا خیال ہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ کو اَحناف قرآن کا حصہ نہیں قرار دیتے بیشک وہ اسے کسی سورۃ کا حصہ نہیں قرار دیتے لیکن قرآن کریم کا حصہ ضرور قرار دیتے ہیں۔گو میرے نزدیک ان کا یہ عقیدہ بھی درست نہیں اور حق یہی ہے کہبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ ہر سورۃ کا حصہ ہے اور جیسا کہ آگے بیان ہو گا۔ہر سورۃ کے پہلے اس کے رکھنے میں بہت سی حکمتیں ہیں۔بِسْمِ اللّٰہِ کی فضیلت ہرکام سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ پڑھنے کا حکم بِسْمِ اللّٰہِ کی فضیلت پر رسول کریم صلعم نے خاص زور دیا ہے آپؐ فرماتے ہیں کُلُّ اَمْرٍ ذِیْ بَالٍ لَایُبْدَأُ فِیہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَقْطَعُ (اربعین حافظ عبدالقادر عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ بحوالہ الدررالمنثور سورۃ الفاتحۃ زیر آیت بسم اللہ) یعنی جس بڑے کام کو بِسْمِ اللّٰہِ سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلعم نے یہ سنت قائم کی ہے کہ مسلمان اپنے سب کاموں کو بسم اللہ سے شروع کیا کریں۔چنانچہ ایک حدیث ہے۔أَغْلِقْ بَابَکَ وَ اْ ذکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَاِنَّ الشَّیْطٰنَ لَایَفْتَحُ بَا بًا مُغْلَقًا وَاطْفِیْٔ مِصْبَاحَکَ وَاْ ذکُرِاسْمَ اللّٰہِ وَخَمِّرْ اِنَائَ کَ وَلَوْ بِعُوْدٍ تَعْرِضُہٗ عَلَیْہِ وَ اذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ وَاَوْکِ سِقَائَ کَ وَا ذْکُرِ اسْمَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (مسند احمد بن حنبل مسند جابر بن عبداللہ) یعنی اپنا دروازہ بند کرتے ہوئے بھی بسم اللہ کہہ لیا کرو اور چراغ بجھاتے ہوئے بھی۔اور برتن کو ڈھانکتے ہوئے بھی او راپنی