تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 21
مشک کا منہ باندھتے ہوئے بھی۔اسی طرح بیوی کے پاس جاتے ہوئے۔وضو کرتے ہوئے۔کھانا کھاتے ہوئے۔پاخانے میں داخل ہونے سے پہلے۔لباس پہنتے ہوئے بِسْمِ اللّٰہِ کا کہنا دوسری احادیث سے ثابت ہے۔قرآن کریم میں حضرت سلیمان کے ایک خط کا ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے بھی اپنا خط بِسْمِ اللّٰہِ سے شروع کیا تھا۔چنانچہ آتا ہے۔اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ (النمل :۳۱) یعنی یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ سے شروع ہوتا ہے۔حضرت نوح ؑ کا ذکر کر کے بھی قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے کشتی میں چڑھتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اِرْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَـجْرٖهَا وَ مُرْسٰىهَا (ھود :۴۲)۔ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ کے رکھے جانے کی پانچ وجوہات ہر سورۃ کے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ اس لئے رکھی گئی ہے کہ قرآن کریم کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ایک خزانہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں کھولا جا سکتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ (الواقعہ :۸۰) سوائے ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ اس امر کے لئے چُن لے۔دوسرے لوگ قرآنی اسرار کو نہیں سمجھ سکتے۔اسی طرح فرماتا ہے يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا وَّ يَهْدِيْ بِهٖ كَثِيْرًا (البقرة :۲۷) قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ بعض کے لئے ہدایت کا موجب اور بعض کے لئے گمراہی کا موجب بنا دیتا ہے گویا لفظ اور عبارت تو سب کے لئے ایک ہے مگر اثر جُدا جُدا رنگ کا ہوتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اچھے اثر کو حاصل کرنے اور بُرے سے بچنے کے لئے اور اس کے اسرار کو سمجھنے کے لئے کیا ذریعہ اختیار کرنا چاہیے؟ سو اس کا جواب اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ (النحل :۹۹) کے حکم سے اوربِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ ہر سورۃ کے پہلے رکھ کر دیا گیا ہے۔یعنی قرآن کریم پڑھنے سے پہلے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سے شیطان کے حملہ سے بچنے کے لئے دُعا کر لیا کرو۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی رحمانیّت اور رحیمیّت کا واسطہ دےکر اس کی مدد حاصل کر لیا کرو اس طرح گمراہی سے بچ جائو گے اور ہدایت حاصل ہو گی۔بسم اللہ سے یہود اور نصاریٰ پر حجت دوسری وجہبِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ کو ہر سورۃ کے پہلے رکھنے کی یہ ہے کہ بائبل میں لکھا تھا کہ آخری زمانہ میں جو موسیٰ کا ایک مثیل آنے والا ہے اس کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہو گا کہ ’’جو کوئی میری باتوںکو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا نہ سنے گا تو میں اس کا حساب اس سے لوںگا۔‘‘ (استثناء باب ۱۸ آیت ۱۹) اس پیشگوئی کے مطابق مثیل موسیٰ کے لئے مقدر تھا کہ جب وہ خدا تعالیٰ کی باتیں کرے اس سے پہلے کہہ لے کہ میں یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے نام پر کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں۔پس ضروری تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق ہر سورۃ سے پہلے بِسْمِ اللّٰہِ رکھی جاتی۔تاایک طرف تو موسیٰ کی پیشگوئی پوری ہو اور دوسری طرف یہود اور نصاریٰ کو تنبیہ ہوتی رہے کہ اگر وہ اس کلام کو نہ سنیں گے تو موسیٰ علیہ السلام کے الہام کے مطابق