تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 19
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِحْدٰی آ یُـہَا (دار قطنی جلد اوّل باب وجوب قراء ۃ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ فِی الصَّلٰوۃ) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم الحمدللہ پڑھو تو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھا کرو کیونکہ سورۃ فاتحہ اُمُّ الْقُرآن ہے اور اُمُّ الْکِتَابِ ہے اور سَبْعُ مَثَانی ہے اور بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ اس کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے۔امام بخاری نے اپنی کتاب تاریخ میں بھی یہ روایت نقل کی ہے (مرفوع بھی اور موقوف بھی)۔(فتح البیان زیر تفسیر سورۃ الفاتحۃ) بسم اللہ تمام سورتوں کا حصہ ہے اس حدیث میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ دوسری سورتوں کا بھی بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حصّہ ہے۔کیونکہ رسول کریم صلعم نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ سورۃ فاتحہ کا حصہ ہے بلکہ اس کے حصّہ ہونے کی دلیل دی ہے اور وہ یہ کہ چونکہ یہ اُمُّ الکتاب اور اُمُّ القرآن ہے اس لیے بسم اللہ اس کے ساتھ ضرور پڑھنی چاہیے اور یہ دلیل اسی صورت میں ٹھیک ہوتی ہے جب یہ آیت باقی سورتوں کا بھی حصّہ ہو اور دلیل بالاولیٰ کے طور پر کہا گیا ہو کہ جب باقی سورتوں کابِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِ حصہ ہے۔تو تم سمجھ سکتے ہو کہ سورۃ فاتحہ جو اُمُّ الکتاب اور اُمُّ القرآن ہے اس کا حصّہ بھی ضرور ہو گی پس اس کی تلاوت سے پہلے اس آیت کو ضرور پڑھا کرو۔بسم اللہ کے سورتوں کے ایک حصہ ہونے کے متعلق مزید ثبوت احادیث سے اس استدلال کے علاوہ اور دلائل بھی اس بارہ میں ہیں مثلاً مسلم کی روایت ہے۔عَنْ اَنَسٍ قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُنْزِلَتْ عَلَیَّ سُوْرَۃٌ اٰنِفًا فَقَرَأَ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰن الرَّحِیْمِ اِنَّا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَر(مسلم کتاب الصلاة بَابُ حُجَّۃُ مَنْ قَالَ البَسْمِلَۃُ اٰیۃٌ مِنْ اَوَّلِ کُلِّ سُوْرَۃٍ) یعنی انسؓ کہتے ہیںکہ رسول کریم صلعم نے ایک دفعہ فرمایا کہ مجھ پر ابھی ایک سورۃ اُتری ہے جو یہ ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔اِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ۔پس آپؐ نے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنَ الرَّحِیْمِکو سورہ کوثر کا حصہ قرار دیا ہے بعض اور سورتوں کے متعلق بھی ایسی روایات ہیں۔اس روایت پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے او رانسؓ انصاری ہیں جو ہجرت کے وقت آٹھ نو سال کے بچے تھے۔حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آپؐ نے یہ بات سورۃ کے نازل ہوتے ہی فرمائی تھی پھر انسؓ نے اس کو کیونکر سن لیا؟ اگر دوسرے دلائل اس قول کی تائید میں نہ ہوتے تو یہ اعتراض یقیناً اس حدیث کو ضعیف بنا دیتا لیکن دوسرے دلائل کی موجودگی میں اس اعتراض کو زیادہ وقعت حاصل نہیں کیونکہ صحابہ بعض دفعہ دوسرے صحابہ سے سن کر بھی روایات بیان کر دیتے تھے اور یہ امر مسلّم ہے کہ جب کوئی روایت رسول کریم صلعم کی طرف کوئی صحابی