تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 210

اناجیل کچھ کہتی ہیں اور پراٹسٹنٹ کے نزدیک کچھ۔اور اگر تصدیق کے وہی معنے ہیں جو قرآن کریم کے سر مسیحی مصنّف مڑھنا چاہتے ہیں تو مسلمان کون سے عقائد کی تصدیق کرے پراٹسٹنٹ عقیدہ کی یا رومن کیتھولک عقیدہ کی یا یونی ٹیرین عقیدہ کی یا گریک چرچ کی یا شامی گرجا کی؟ مسیحی مصنفوں کا استدلال اس سے باطل ہوتا ہے کہ (۱) قرآن کریم میں پہلے کلاموں پر ایمان کو بعد میں رکھا گیا ہے اگر تفصیلی ایمان مراد ہوتا توپہلے پہلی وحی کا ذکر ہوتا بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کا۔پہلی وحی کا بعد میں ذکر کرنا بتاتا ہے کہ اس پر ایمان قرآن کریم کے توسط سے ہے یعنی اس کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق۔وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ کے الفاظ سے مسیحیوں کا قرآن مجید کو بائبل کا مصدق قرار دے کر غلط مطالب نکالنا (۲) وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ میں کسی قوم یا مذہب کا مخصوص ذکر نہیں بلکہ ہر قوم و ملّت کے الہام کی تصدیق کی ہے اگر مسیحی اس سے بائبل کی تصدیق نکالیں تو ہندو اپنے ویدوں کی تفصیلی تصدیق نکالنے میں حق بجانب ہوں گے اور زردشتی اپنی الہامی کتب کی۔ان سب کتب میں مسیحی اتحاد کیونکر پیدا کریں گے آخر بائبل کو دوسری کتب پر فضیلت کیوں؟ (۳) قرآن کریم میں اﷲتعالیٰ فرماتا ہے۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ (المومن:۷۹) ہم نے تجھ سے پہلے جو رسول بھیجے تھے ان میں سے بعض کا ذکر ہم نے تیرے الہام میں کیا ہے اور بعض کا ذکر تک نہیں کیا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ کئی انبیاء کا ذکر تک نہیں اُن کے کلام پر مسلمان کس طرح ایمان لائیں؟ پس ظاہر ہے کہ اس جگہ اجمالی ایمان مراد ہے نہ کہ تفصیلی۔(۴) قرآن کریم میں آتا ہے۔فِيْهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البینة:۴) قرآن کریم میں تمام سابق صحیح اور غیرمنسوخ تعلیمیں جمع کر دی گئی ہیں پھر فرماتا ہے۔وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَيْمِنًا عَلَيْهِ (المائدة :۴۹) اور ہم نے تجھ پر ایسی کتاب اتاری ہے جو تمام سچائیوں پر مشتمل ہے اور کتاب الٰہی میں سے جو کچھ بھی اس کے وقت میں موجود ہے اس کی تصدیق کرتی ہے اور اس کے مضامین کی حفاظت کرتی ہے۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ تفصیلی تعلیم کو مدِّنظر رکھتے ہوئے قرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ سب پہلی غیرمنسوخ اور زمانہ حال کے لئے قابل عمل تعلیمات قرآن کریم میں شامل کر دی گئی ہیں۔پس جب سب پہلی قابل عمل تعلیمات قرآن کریم کے دعویٰ کے مطابق اس میں شامل ہو چکی ہیں تو پہلی کتب کی تصدیق سے مراد صرف اجمالی تصدیق ہے نہ کہ کچھ اور یہ تصدیق