تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 211

ویسی ہی ہے جیسے کہ مسیحی ابراہیم اور موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ نبی تھے لیکن ان کی تعلیم پر تو عمل نہیں کرتے بلکہ وہ تو اُسے لعنت کہتے ہیں۔قرآنِ کریم بھی اسی اجمالی رنگ میں اُن کی بھی اور اُن کے علاوہ دوسری اقوام کے انبیاء کی بھی تصدیق کرتا ہے مگر وہ اُن کی شریعتوں کو لعنت قرار نہیں دیتا بلکہ وہ ان سب راستبازوں کو اپنے اپنے وقت کے لئے رحمت ِالٰہی قرار دیتا ہے۔مسیحی مصنّفوں کی سمجھ میں قرآن کریم کا یہ بے نظیر نکتہ اس لئے نہیں آتا کہ وہ نبی مان کر بھی ایک شخص کو مجرم اور گنہگار قرار دینے میں دریغ نہیں کرتے پس ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ قرآنِ کریم کی اس تعلیم سے کہ ہر قوم کے نبیوں اور ان کے الہام کے سچا ہونے کا اقرار کرو۔دنیا کو یا اس کے امن کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ کیونکہ وہ تو جن کو نبی سمجھتے ہیں ان پر بھی خلاف اخلاق الزام لگانے سے باز نہیں رہتے اور صرف مسیح علیہ السلام کو پاک قرار دیتے ہیں لیکن قرآن کریم کا مسلک اور ہے وہ سب نبیوں کو پاک اور راستباز قرار دیتا ہے اس لئے جب وہ ہر قوم کے نبیوں کے الہام کو اجمالی طور پر سچا ماننے کا حکم دیتا ہے تو وہ اپنے عقیدہ کے رُو سے دنیا میں امن کے قیام کا راستہ کھول دیتا ہے کیونکہ جب ایک مسلمان یہ تسلیم کر لے گا کہ خدا تعالیٰ نے کرشن اور رام چندر اور زردشت پر اپنا کلام نازل کیا تھا تو وہ قرآنی عقیدہ کے رُو سے اُن کی زندگیوں کو پاک سمجھے گا۔اور اُن پر لگائے گئے سب الزاموں کو خواہ ماننے والو ںکی طرف سے ہوں خواہ مخالفوں کی طرف سے غلط اور بے بنیاد قرار دے گا اور ان کا احترام کرے گا اور اس طرح دنیا میں امن قائم ہو گا۔اس اجمالی ایمان کا ایک اور بھی فائدہ ہے کہ اس طرح مسلمانو ںکے دل میں خدا تعالیٰ کی حقیقی محبت قائم کی گئی ہے کیونکہ تعصّب کی وجہ سے خواہ کوئی قوم کتنا ہی یقین کرے کہ صرف ہماری ہی کتاب خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے لیکن ان خشیت اللہ کے اوقات میں جو ہر انسان پر آتے ہی رہتے ہیں اس کے دل میں ضرور یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ربّ العالمین کس طرح ہو گیا جبکہ اس نے کسی ایک قوم کو اپنے الہام کے لئے چن لیا اور باقی سب اقوام کو چھوڑ دیا ہے؟ اس قرآنی عقیدہ کی بناء پر ایک مسلمان کا عقیدہ ربوبیت عالمین کے متعلق اور بھی پختہ ہو جاتا ہے اور وہ سمجھ لیتا ہے کہ خدا تعالیٰ واقعہ میں کسی ایک قوم کا خدا نہیں بلکہ سب دنیا کا خدا ہے۔حصہ آیت وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَکی تشریح وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ۔حلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ اَ لْاٰخِرَۃُ کے معنے بعد میں آنے والی چیز کے ہوتے ہیں اسی وجہ سے بعد الموت زندگی کو حیاتِ آخرت اور قیامت کے دن کو یوم الآخرۃ کہتے ہیں اور اسی وجہ سے انجام کو بھی آخرت کہتے ہیں کیونکہ بعد میں ظاہر ہوتا ہے۔