تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 195
دوسرے لفظو ںمیں ایک متقی کا ہوتا ہے۔وہ بھی اس دنیا کے بارہ میں صرف اس پر قناعت نہیں کرتا جو اس کی آنکھوں کے سامنے ہے بلکہ اس کے مبدا اور منتہٰی کی تحقیق بھی کرتا ہے اور اس کے مخفی خزانوں کو بھی تلاش کرتا ہے اور اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ سوائے اس قسم کی تحقیق کے نہ علم کامل ہو سکتا ہے نہ عمل۔پس ایمان بالغیب انسانی تکمیل کا ایک ایسا ضروری جزو ہے کہ اسے نظر انداز کر دینا صرف ایک جاہل کا کام ہو سکتا ہے۔ایمان بالغیب کے بعد اِقَامَۃُ الصَّلوٰۃ اور اس کے بعد مِـمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْن کے رکھنے میں حکمت اس اہم اور ضروری امر پر زور دینے کے بعد اس کے لازمی نتائج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔اوّل یہ کہ جب انسان اس عالم کے مبدا پر غور کرتا ہے اور اسکے پیدا کرنے والے وجود کو دلائل سے معلوم کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ شدید تعلق پیدا کرنے کی طرف بھی توجہ کرتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں عبادت یا اقامتِ صلوٰۃ ہے۔پھر جب اس کا روحانی تعلق اس مبدئِ ُکل سے ہو جاتا ہے تو لازماً اسے اس کے متعلّقین اورمتوصّلین کی طرف بھی توجہ ہوتی ہے او ران کی بہتری کے لئے کوشش کرنے لگتا ہے کیونکہ مبدائِ کل سے تعلق پیدا ہو جانے کے بعد اس کی مخلوق کی محبت بھی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے جس طرح کہ ماں باپ سے تعلق کے نتیجہ میں بھائیوں کی محبت پر بھی انسان مجبور ہو جاتا ہے۔پس عبادت اور اقامت ِ صلوٰۃ کے بعد متقی کا دوسرا کام وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ بتایا۔اوپر کی تشریح سے ظاہر ہے کہ اس آیت میں ایمان بالغیب کے بعد اِقَامَۃ الصَّلٰوۃ اور اس کے بعد مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ کا رکھنا ایک اتفاقی امر نہیں۔بلکہ ایک پُر حکمت ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے۔اِقَامَۃُ الصَّلوٰۃ کے حکم کو مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ سے پہلے رکھنے کا مطلب اس جگہ ایک اور نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ ہے کہ اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ کو اس جگہ پہلے رکھا گیا ہے اور مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ کو بعد میں رکھا گیا ہے۔اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ رُوحانی عالم میں خدا تعالیٰ سے تعلق مخلوق سے تعلق پر مقدّم ہے اور یہی طبعی اور درست ترتیب ہے۔کیونکہ بغیر اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق کے مخلوق سے کامل محبت ہو ہی نہیں سکتی۔روحانی عالم میں خالق سے تعلق مخلوق سے تعلق پر مقدم ہے اس معاملہ میں اسلام اور فلسفیوں کے خیالات میں اختلاف ہے۔فلسفی کہتے ہیں اور بعض مذہب سے نامکمل تعلق رکھنے والے بھی ان کی تائید کرتے ہیں کہ جب مخلوق سے تعلق ہو جائے تو اللہ تعالیٰ سے خود بخود ہی تعلق ہو جاتا ہے۔اور اُن کے نزدیک جو شخص مخلوق سے تعلق کو درست کر لے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے بھی آپ ہی آپ درست ہو جاتا ہے۔پس اصل چیز جس کی طرف توجہ چاہیے وہ مخلوق سے تعلق ہے۔مگر ایک ادنیٰ تأمّل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ بات بالبداہت باطل ہے۔