تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 194

شاذو نادر کے طورپر رہ گئی ہے بلکہ شہروں کے باشندے تو اس سے قریباً محروم ہی ہو گئے ہیں۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس قدر تاکید کی ہے کہ ضیافت کو ایک حق قرار دے دیا اور فرمایا کہ اگر کسی بستی کے باشندے ضیافت میں کوتاہی کریں تو ان سے جبراً بھی ضیافت کا حق وصول کیا جا سکتا ہے۔اس حق کی تمام تفصیلات بیان کرنے کا یہ موقع نہیں۔یہاں اس قدر بیان کر دینا کافی ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اس حق کی تشریح میں فرماتے ہیں تَھَادُ وْا تَحَابَّوْا(ابن عساکر عن ابی ہریرہ بحوالہ جَامِعُ الصَّغِیْرلِلسَّیُوْطِی) یعنی ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے محبت میں ترقی ہوتی ہے۔اسی طرح احادیث میں آتا ہے کہ آپؐ نے فرمایا مجھے جبریل علیہ السلام نے ہمسایوں سے نیک سلوک کی اس قدر تاکیدکی کہ میں نے سمجھا کہ اُسے وارث مقرر کر دیا جائے گا۔(ترمذی ابواب البّر والصِّلۃ باب ماجاء فی حق الجوار) یہ خرچ صدقہ کی اقسام سے نہیں ہے بلکہ اخوت کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اور تمدن کی ترقی کے لئے نہایت ضروری احکام میں سے ہے۔خلاصہ یہ کہ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ میں صرف صدقہ کا ذکر نہیں بلکہ اُوپر کے بیان کردہ سب قسم کے اخراجات اس میں شامل ہیں۔اور غریب امیر، بڑے چھوٹے سب کے بارہ میں اس میں نہایت لطیف احکام بیان ہوئے ہیں۔اور تقویٰ کے قیام کے لئے یہ ایک ضروری امر ہے۔آیت کے مضامین پر مجموعی نظر اِس آیت میں تین احکام بیان ہوئے ہیں۔سب سے پہلے تو ان صداقتوں پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانی نظر سے پوشیدہ ہیں۔او ربتایا ہے کہ صرف محسوسات پر ایمان رکھنا کوئی خوبی نہیں۔کیونکہ ان کو تو ہر بیوقوف سے بیوقوف بھی مانتا ہے۔متقی کا مقام اس سے بالا ہے اور وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ ان صداقتوں پر بھی ایمان لائے جو ظاہر نظر سے پوشیدہ ہوتی ہیں اور یہی روحانیت کے کمال کی علامت ہے ورنہ دریا کو دریا سمجھنا او رپہاڑکو پہاڑ جاننا کوئی خوبی نہیں ہے۔دریا کو دریا ماننے والا عالم اور کامل نہیں کہلا سکتا۔بلکہ وہ شخص عالم سمجھا جاتا ہے جو اس دریا کے پیچھے بھی نظر کرتا ہے۔اور یہ تحقیق کرتا ہے کہ دریا کہاں سے آیا ہے کس طرح بنا ہے، کن طبعی تغیرات کے نتیجہ میں اس کو پانی حاصل ہوا ہے۔اور اس پر بھی غور کرتا ہے کہ دریا سے اس وقت کیا کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، اور یہ کہ وہ کدھر کو جاتا ہے او رکہاں گرتا ہے۔غرض ایک دریا کو دیکھنے والے جاہل اور عالم میں یہی فرق ہے کہ جاہل صرف حاضر کو جانتا ہے اور عالم اس کے غائب حصہ کو بھی جانتا ہے۔اور اسی کے جاننے سے وہ اس سے علمی اور عملی فائدہ اٹھا سکتا ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔یہی حال روحانیات کے متعلق ایک عالم باعمل یا