تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 196
مخلوق سے تعلق پیدا کر کے خالق تک پہنچنے کا خیال رکھنے والوں کے شبہات کا ردّ اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوق سے نیک سلوک خدا تعالیٰ کی عباد ت کا حصہ ہے لیکن یہ کہنا کسی طرح درست نہیں کہ یہ امر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا موجب ہو سکتا ہے بلکہ حق یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے تعلق مخلوق سے محبت کا موجب ہوتا ہے او رجو لوگ اس کے اُلٹ خیال کرتے ہیں وہ اس امر کو نہیں دیکھتے کہ مشاہدہ کس امر کی تائید کرتا ہے اگر وہ یہ دیکھتے کہ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کو پا کر مخلوق سے محبت کی ہے وہ کس پایہ کے تھے اور جو لوگ مخلوق سے محبت کر کے خدا تعالیٰ کو پانے کے مدعی ہیں وہ اگر کہیں پائے جاتے ہیں تو کس پایہ کے ہیں؟ خدا تعالیٰ کو پا کر مخلوق سے محبت کرنے والوں میں سے حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسٰی، حضرت کرشن، حضرت رام چندر اور حضرت زردشت ہیں اور میرے نزدیک حضرت بدھ اور حضرت کنفیوشس علیہم السلام بھی اور سب کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ صلے اللہ علیہ وسلم۔ان سب کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔انہو ںنے جس رنگ میں اور جس شان کی بنی نوع انسان اور باقی مخلوق کی خدمت کی ہے اس کی مثال دوسرے لوگوں میں کہاں پائی جاتی ہے؟ خدا تعالیٰ کو پا کر بعد میں مخلوق کے ساتھ محبت کرنے کا عقیدہ رکھنا ہی درست ہے کوئی ایک شخص بھی جس نے مخلوق سے محبت کر کے خدا تعالیٰ کو پایا ہو ان کے مقابل پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔اور ان کے مقابل پر ٹھہر نہیں سکتا۔اور حق یہ ہے کہ تاریخ ایسے وجود کو پیش ہی نہیں کرتی۔جس کا یہ دعویٰ ہو کہ اس نے پہلے مخلوق سے محبت کی اورپھر خدا تعالیٰ کو پایا۔لیکن ایسے ہزاروں لاکھوں آدمی دنیا میں گزرے ہیں کہ جن کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو پایا اور اس کی محبت سے سرشار ہو کر اس کی مخلوق کی محبت کو حاصل کیا۔پس جبکہ مشاہدہ اس امر پر شاہد ہے کہ خدا تعالیٰ کو پا کر مخلوق کی محبت کرنے والے تو ہزاروں لاکھو ںوجود دنیا میں گزرے ہیں لیکن مخلوق کی محبت کر کے خدا تعالیٰ کو پانے والے کسی ایک وجود کا بھی پتہ نہیں ملتا۔تو ایسی بے دلیل بات کے پیش کرنے کا فائدہ کیا؟ مخلوق کو خالق پر مقدم کرنے کے عقیدہ کا عقلی ردّ دوسرا پہلو اس سوال کا عقلی پہلو ہے۔اگر اس پہلو سے غور کیا جائے تب بھی یہ دعویٰ کہ پہلے مخلوق کی محبت ہو تو اس سے خدا تعالیٰ آپ ہی مل جاتا ہے‘ درست ثابت نہیں ہوتا۔کیونکہ عقلی طور پر مخلوق کی محبت سے خدا تعالیٰ کے وجود کامل جانا ناممکن اور غیر معقول نظر آتا ہے۔کیونکہ مخلوق کی محبت کی وجہ یا تو حبِّ وطن ہو سکتی ہے یا طبیعت کی نرمی۔اور ظاہر ہے کہ حبِّ وطن کی وجہ سے جو بنی نوع انسان سے محبت کرتا ہے وہ وطنی تقاضا کے ماتحت ان دوسرے انسانوں سے جو اس کے وطنی نہیں ہیں دشمنی بھی کر سکتا ہے اور اسے خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا کوئی بھی موجب موجود نہیں بلکہ اس سے دور لے جانے والے موجبات پیدا ہوتے