تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 193
اس محسن عظیم کی اولاد سے جو سلوک کیا جائے وہ صدقہ ہو ہی نہیں سکتا۔وہ تو اس محسن کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ایک ادنیٰ کوشش ہو گی۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ مسلمان اس مسئلہ کو خاص زور سے بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ایسے بے نفس تھے کہ آپؐ نے اپنی اولاد کے لئے صدقہ کو حرام کر دیا۔اوراُنہیں یہ خیال نہیں آتا کہ آپؐ ایسے بے نفس تھے تو مسلمان ایسے نفس کے بندے کیو ںہو گئے ہیں کہ آپؐ کے احسان کا بدلہ اتارنے کی ادنیٰ کوشش بھی نہیں کرتے؟ محسن کسی بدلہ کا خیال نہیں کرتا۔مگر کیا جس پر احسان کیا جائے اس کی شرافت ِ نفس اس کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ محسن کے احسان کا شکریہ عمل سے ادا کرے؟ میرے نزدیک اس حکم سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانو ںکو یہ ادب سکھایا تھا کہ اگر حضرت رسالت مآب کی اولاد میں سے کوئی غریب ہو تو وہ اس کے ساتھ حضور کے احسان کی یاد میں سلوک کریں کیونکہ آپ کی اولاد کے ساتھ صدقہ کا معاملہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔کیا اپنے بھائیوں کو لوگ صدقہ دیا کرتے ہیں پھر کیا اس روحانی باپ کی اولاد سے ان کا سلوک بھائیوںجیسا نہیں ہونا چاہیے؟ افسوس کہ اس حکمت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان دو حکموں میں سے ایک کو توڑنے لگ گئے ہیں۔یا تو وہ سادات پر صدقہ اور زکوٰۃ خرچ کرنے لگ گئے ہیں یا اُن کی خدمت سے بالکل محروم ہو گئے ہیں۔مجھ پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ میں نے دیر سے اس نکتہ کو سمجھا ہے اور مجھے کئی دفعہ اس امر کی توفیق ملی ہے کہ غرباء سادات کی خدمت کروں۔نہ اس خیال سے کہ میں اُن پر صدقہ کر رہا ہوں بلکہ اس خیال سے کہ اُن سے حسنِ سلوک اس احسان عظیم کے اقرار کی جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ہم پر کئے ہیں ایک ادنیٰ کوشش ہے۔فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔کاش مسلمان اس نکتہ کو سمجھیں اور سادات کو صدقہ دینے یا ان کی مشکلات کو بالکل نظر انداز کرنے کے دو قبیح جرموں سے محفوظ ہو جائیں۔اگر وہ ایسا کریں تو شاید اللہ تعالیٰ بھی ان کی اولادوں پر رحم فرمائے۔ھدیہ (۱۰) دسویں قسم جو قرآن کریم سے خرچ کی ثابت ہے وہ ہدیہ ہے۔یعنی بغیر کسی سابق احسان یا صدقہ کے خیال کے ایک دوسرے کو موقع مناسب پر ہدیہ دیا جائے تاکہ آپس میں محبت بڑھے۔اس کا بہترین موقع تو وہ ضیافت ہے جو ایک شخص دوسرے کی کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اس کا ذکر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام دو نبیوں کے ذکروں میں آتا ہے۔ضیافت صرف ایک صورت ہدیہ کی ہے ورنہ اور مناسب مواقع بھی اس حکم کے عمل کے نکل سکتے ہیں۔افسوس مسلمانوں نے اس حکم کو بھی بھلا دیا ہے۔اور مسافروں کی مہمان نوازی