تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 193

اس محسن عظیم کی اولاد سے جو سلوک کیا جائے وہ صدقہ ہو ہی نہیں سکتا۔وہ تو اس محسن کے احس<mark>ان</mark> کا بدلہ اتارنے کی ایک ادنیٰ کوشش ہو گی۔مجھے ہمیشہ تعجب ہوتا ہے کہ مسلم<mark>ان</mark> اس مسئلہ کو خاص زور سے بی<mark>ان</mark> کرتے ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم ایسے بے نفس تھے کہ آپؐ نے اپنی اولاد کے لئے صدقہ کو حرام کر دیا۔اوراُنہیں یہ خیال نہیں آتا کہ آپؐ ایسے بے نفس تھے تو مسلم<mark>ان</mark> ایسے نفس کے بندے کیو ںہو گئے ہیں کہ آپؐ کے احس<mark>ان</mark> کا بدلہ اتارنے کی ادنیٰ کوشش بھی نہیں کرتے؟ محسن کسی بدلہ کا خیال نہیں کرتا۔مگر کیا جس پر احس<mark>ان</mark> کیا جائے اس کی شرافت ِ نفس اس کا تقاضا نہیں کرتی کہ وہ محسن کے احس<mark>ان</mark> کا شکریہ عمل سے ادا کرے؟ میرے نزدیک اس حکم سے اللہ تعالیٰ نے مسلم<mark>ان</mark>و ںکو یہ ادب سکھایا تھا کہ اگر حضرت رسالت مآب کی اولاد میں سے کوئی غریب ہو تو وہ اس کے ساتھ حضور کے احس<mark>ان</mark> کی یاد میں سلوک کریں کیونکہ آپ کی اولاد کے ساتھ صدقہ کا معاملہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔کیا اپنے بھائیوں کو لوگ صدقہ دیا کرتے ہیں پھر کیا اس روح<mark>ان</mark>ی باپ کی اولاد سے <mark>ان</mark> کا سلوک بھائیوںجیسا نہیں ہونا چاہیے؟ افسوس کہ اس حکمت کے نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلم<mark>ان</mark> دو حکموں میں سے ایک کو توڑنے لگ گئے ہیں۔یا تو وہ سادات پر صدقہ اور زکوٰۃ خرچ کرنے لگ گئے ہیں یا اُن کی خدمت سے بالکل محروم ہو گئے ہیں۔مجھ پر اللہ تعالیٰ کا احس<mark>ان</mark> ہے کہ میں نے دیر سے اس نکتہ کو سمجھا ہے اور مجھے کئی دفعہ اس امر کی توفیق ملی ہے کہ غرباء سادات کی خدمت کروں۔نہ اس خیال سے کہ میں اُن پر صدقہ کر رہا ہوں بلکہ اس خیال سے کہ اُن سے حسنِ سلوک اس احس<mark>ان</mark> عظیم کے اقرار کی جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے ہم پر کئے ہیں ایک ادنیٰ کوشش ہے۔فَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی ذَالِکَ۔کاش مسلم<mark>ان</mark> اس نکتہ کو سمجھیں اور سادات کو صدقہ دینے یا <mark>ان</mark> کی مشکلات کو بالکل <mark>نظر</mark> <mark>ان</mark>داز کرنے کے دو قبیح جرموں سے محفوظ ہو جائیں۔اگر وہ ایسا کریں تو شاید اللہ تعالیٰ بھی <mark>ان</mark> کی اولادوں پر رحم فرمائے۔ھدیہ (۱۰) دسویں قسم جو قرآن کریم سے خرچ کی ثابت ہے وہ ہدیہ ہے۔یعنی بغیر کسی سابق احس<mark>ان</mark> یا صدقہ کے خیال کے ایک <mark>دوسرے</mark> کو موقع مناسب پر ہدیہ دیا جائے تاکہ آپس میں محبت بڑھے۔اس کا بہترین موقع تو وہ ضیافت ہے جو ایک شخص <mark>دوسرے</mark> کی کرتا ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ قرآن کریم میں اس کا ذکر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام دو نبیوں کے ذکروں میں آتا ہے۔ضیافت صرف ایک صورت ہدیہ کی ہے ورنہ اور مناسب مواقع بھی اس حکم کے عمل کے نکل سکتے ہیں۔افسوس مسلم<mark>ان</mark>وں نے اس حکم کو بھی بھلا دیا ہے۔اور مسافروں کی مہم<mark>ان</mark> نوازی