تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 192
کی کوشش کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ والدین کی نسبت فرماتا ہے۔وَ وَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ (لقمان:۱۵) یعنی ہم نے ہر انسان کو اپنے والدین سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔پھر اسی جگہ آگے چل کر فرماتا ہے اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيْكَ (لقمان:۱۵) یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا ہے کہ ہمارا بھی شکر کر اور اپنے والدین کا بھی۔شکر کے لفظ سے یہ بتایا ہے کہ والدین کے ساتھ جو سلوک کر اس خیال سے نہ کر کہ میں ان کے ساتھ کوئی احسان کرتا ہوں بلکہ احسان تو انہوںنے تجھ پر کیا ہے۔ُتو تو جو نیک معاملہ ان سے کرے گا وہ اظہار شکر اور اقرار احسان کے طور پر ہو گا۔قرآن کریم میں بعض جگہ والدین سے سلوک کا نام احسان بھی آیا ہے۔جیسا کہ مثلاً اسی سورۃ میں یعنی سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے وَ بِالْوَالِدَيْنِ۠ اِحْسَانًا (البقرة: ۸۴) یعنی والدین سے احسان کا سلوک کر۔اس سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ والدین سے سلوک بھی احسان کے معروف معنوں میں کیا جاسکتا ہے۔اس آیت میں احسان کا لفظ عام معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ ایک اور معنوں میں استعمال ہوا ہے۔عربی زبان کا محاورہ ہے کہ کسی امر کے بدلہ کے لئے بھی وہی لفظ استعمال کر دیا جاتا ہے۔جیسے مثلاً ظلم کے بدلہ کا نام ظلم رکھ دیا جاتا ہے اور اس سے مراد ظلم نہیں ہوتا۔بلکہ اس کے معنے ظلم کے بدلہ کے ہوتے ہیں۔اسی طرح اس آیت میں اور دوسری آیات میں جہاں والدین کے لئے احسان کا لفظ آیا ہے اس کے معنے احسان کے بدلہ کے ہیں۔لیکن ان کے سوا دوسرے لوگوں کی نسبت اس لفظ کا استعمال اپنے معروف معنوں میں ہوا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اور الفاظ بھی اس محاورہ کے مطابق استعمال ہوئے ہیں۔مثلاً اسی سورۂ بقرہ میں فرمایا ہے فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ(البقرة :۱۹۵) یعنی جو تم پر ظلم کرے اس پر اسی قدر ظلم کر سکتے ہو۔اب یہ امر ظاہر ہے کہ ظلم کا اسی قدر بدلہ ظلم نہیں کہلا سکتا۔پس بدلہ لینے والے کے لئے جو اعتداء کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کے معنے محض بدلہ کے ہیں نہ کہ ظلم کے۔اسی طرح احسان کرنے والے کے حق میں جب احسان کرنے کے الفاظ استعمال کئے جائیں تو اس کے معنے بدلہ احسان کے ہوتے ہیں نہ کہ احسان کے۔اسی اداء احسان کے حکم کے نیچے اپنے اُستادوں اور دوسرے محسنوں یا ان کی اولادوں سے حسن سلوک بھی آجاتا ہے۔اور اس حکم کے ماتحت سب سے بڑے انسانی محسن آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کا بدلہ بھی آ جاتا ہے۔جو صحابہ کرام درود اور دعائوں اور خدمت کے ذریعہ سے ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔سادات کے لئے صدقہ کو ناجائز کرنے میں حکمت میرے نزدیک رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو جو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کی اولاد کے لئے صدقہ جائز نہیں تواس میں یہی حکمت تھی کہ امت اسلامیہ کو بتایا جائے کہ