تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 177

ایک نعمت خیال کرتا ہو اور اسے شوق سے لے۔اس لفظ کو اسی موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ وہ چیز جو دی جائے اس کے لئے جسے دی جائے مفید اور کار آمد ہو چنانچہ عَطَاء کے معنی خدمت کے بھی ہوتے ہیں اور تَعَاطٰیکے معنی ایڑیاں اُٹھا کر اور ہاتھ بلند کر کے کسی چیز کے لینے کے ہوتے ہیں مَنّ احسان اور انعام زیادہ تر حسنِ سلوک کے معنوں پر دلالت کرتے ہیں اور لینے والے کی کسی خاص حالت کو ظاہر کرنے کی بجائے دینے والے کے نیک جذبات پر دلالت کرتے ہیں۔وَھَب کے معنوں میں اس امر پر زور ہے کہ دینے والے نے جو کچھ دیا ہے اس کے بدلہ میں کسی عوض یا بدلہ کی امید نہیں رکھی۔رزق کا لفظ جو آیت زیر بحث میں استعمال ہوا ہے اس کے معنے بھی دینے کے ہیں لیکن اس کے معنوں میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ جو چیز دی گئی ہے اس نے لینے والے کی ضرورت کو پورا کیا ہے۔گویا علاوہ دینے کے معنوں کے اس میں پانے والے کی ضرورت کی طرف بھی اور اس کے پورا ہونے کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے اور چونکہ انسانی ضرورت بار بار پیدا ہوتی ہے رزق اس عطاء کو کہتے ہیں جو بار بار ضرورت کے مطابق نازل ہو چنانچہ مفردات راغب میں لکھا ہے کہ اَلرِّزْقُ یُقَالُ لِلْعَطَائِ الْجَارِیِّ۔رِزْقٌ اُس عطاء کو کہتے ہیں جو بار بار نازل ہوتی رہے وَیُقَالُ لِلنَّصِیْبِ اور حصہ کو بھی کہتے ہیں یہ حصہ کے معنے بھی اسی وجہ سے پیدا ہوئےہیں کہ رزق درحقیقت قدرِ کفایت کا نام ہے اور حصہ بھی اسی کا نام ہے کہ جس جس قدر کسی کو ضرور ت ہو اس کے مطابق اسے چیز مل جائے قرآن کریم میں آتا ہے وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ یعنی ہر جنس کی ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا کر دیئے ہیں۔رزق کے معنے صرف کھانے پینے کی چیزوں کے نہیں محض اردو دان طبقہ میں یہ غلط خیال رائج ہے کہ رزق کے معنی صرف کھانے پینے کی چیزوں کے ہیں حالانکہ اصل میں رزق کے معنے بقدر ضرورت سامان مہیا کر دینے کے ہیں بیشک انہی معنوں سے غذا کے معنے بھی پیدا ہو گئے ہیں کیونکہ وہ بھی انسان کا ضروری حصہ ہیں مگر وہ اصل معنی نہیں ہیں بلکہ بعد میں ضمناً پیدا ہو گئے ہیں پس وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ کے معنے یہ ہیں کہ جو کچھ بھی تم کو ہم نے دیا ہو خواہ علم ہو، عزت ہو، عقل ہو ،مال ہو ،دولت ہو اس میں سے ایک حصہ تم کو خرچ کرنا چاہیے۔پس اس جملہ کے یہ معنے نہیں کہ جو کچھ تم کو کھانے پینے کی اشیاء ملی ہیں ان میں سے کچھ غریبو ںکو بھی کھلائو کیونکہ نہ تو اس جملہ میں غریبوں کا ذکر ہے نہ اس چیز کی تعیین ہے جسے خرچ کرنا ہے اور ہمارا کوئی حق نہیں کہ جن اشیاء کو خدا تعالیٰ نے بغیر حد بندی کے چھوڑ دیا ہے ہم ان کے لئے اپنے پاس سے حد بندی مقرر کریں۔ہر عطا شدہ طاقت کے خرچ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ اس آیت میں صرف اس قدر فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے