تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 176

طرف توجہ دلانے کی اس قدر ضرورت نہ ہو گی جس قدر کہ اس وقت جب مقصد کو بھلا دینے کے سامان زیادہ ہوں۔پس اگر اس زمانہ میں دنیوی مشاغل بڑھ گئے ہیں تو نماز کی ضرورت بھی زیادہ ہو گئی ہے۔اگر نماز صرف ایک اظہارِ عقیدہ کا ذریعہ ہوتا تب یہ اعتراض کچھ وزن بھی رکھتا مگر جیسا کہ بتایا گیا ہے نماز کی غرض صرف اقرار عبودیت نہیں بلکہ اس کی غرض تو انسانی نفس میں وہ استعداد پیدا کرنا ہے جس کی مدد سے وہ مادی دنیا سے اُڑ کر روحانی عالم میں پہنچ سکے اور اس کا دماغ جسمانی خواہشات میں ہی اُلجھ کر نہ رہ جائے بلکہ اعلیٰ اخلاق کو حاصل کرے جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ (العنکبوت :۴۶) یعنی نماز صرف عبودیت کا اقرار نہیں بلکہ قلب انسانی کو جلا دینے والی شے ہے اور اس کی مدد سے انسان بدیو ںاور بدکرداریوں سے بچتا ہے اور اس کا وجودبنی نوع انسان کے لئے مفید بنتاہے اور وہ ملت و قوم کا ایک فائدہ بخش جزو ہو جاتا ہے۔پس جو عمل کہ یہ خوبیاں رکھتا ہو مادی اشغال کی کثرت کے زمانہ میں اس کی ضرورت کم نہیں ہوتی بلکہ بہت بڑھ جاتی ہے اور حق تو یہ ہے کہ اس زمانہ میں بدامنی اور شورش اور نفسانفسی اور قوموں کی قوموں پر چڑھائی کا اصل سبب یہی ہے کہ لوگ سچی عبادت میں کوتاہی کرنے لگے ہیں ورنہ اگر صحیح عبادت کا طریق لوگوں میں رائج ہوتا تو اس دنیا کو پیدا کرنے والے مہربان آقا سے اِتّصال کی وجہ سے ُبغض اور نفرت کی جگہ محبت اور ایثار اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا۔وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ کی تشریح حَلِّ لُغَاتمیں بتایا جا چکا ہے کہ رَزَقَ کے معنے دینے کے ہیں نہ کہ کھانا دینے کے۔رَزَقَہٗ کے یہ معنے نہیں کہ اسے کھانا کھلایا بلکہ یہ ہیں کہ اسے کچھ دیا خواہ وہ کوئی ہی چیز کیوں نہ ہو۔عربی زبان میں کسی چیز کے دینے کے مفہوم کوادا کرنے کےلئے مختلف الفاظ کا استعمال اور ان کا فرق عربی زبان میں دینے کے لئے کئی الفاظ استعمال ہوتے ہیں رزق بھی اور ھِبَہ بھی اور عَطَاء بھی اور مَنّبھی اور اِحْسَان بھی اور اِنْعَام بھی اور اِیْتَاء بھی او ربھی کئی الفاظ ہیں لیکن قرآن کریم میں یہی سات لفظ استعمال ہوئے ہیں۔ان میں اِیْتَاء تو صرف دینے کے معنے میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ اَ تَا سے بنا ہے جس کے معنی کسی کے پاس آنے کے ہوتے ہیں اور اِیْتَاء کے معنے کسی کے پاس لانے کے ہوتے ہیں جس سے آگے دینے کے معنے ہو گئے کیونکہ کسی کے پاس کوئی چیز لانے سے مراد غالب طور پر اُسے وہ چیز دینا ہوتا ہے۔غرض یہ لفظ محض دینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے خواہ وہ چیز بڑی ہو یا چھوٹی، اچھی ہو یا بُری اور قرآن کریم میں متعدد بار ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔دوسرا لفظ عَطَاء ہے یہ لفظ اَتٰی سے زیادہ اہم مفہوم بیان کرتا ہے اور معمولی دینے کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ بالعموم ایسی چیز کے دینے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جسے اس چیز کا حاصل کرنے والا