تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 164

بدء الخلق باب یزفون النسلان فی المشی و مشکٰوۃ کتاب الصلٰوۃ باب الصلٰوۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وفضلہ ) اس کے معنے یہ ہیں کہ اے اللہ! محمد پر اپنے فضل اور رحمتیں نازل کر اور اسی طرح تمام ان لوگوں پر جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق رکھتے ہیں جس طرح تو نے ابراہیم پر اور ابراہیم سے تعلق رکھنے والوں پر فضل اور رحمت نازل کی تھی اور اے اللہ! محمد صلعم پر اپنی برکتیں نازل کر اور ان پر بھی جو آپؐ سے تعلق رکھتے ہیں۔جس طرح تو نے ابراہیم پر اور اس سے تعلق رکھنے والوں پر برکتیں نازل کی تھیں۔تشہد کے بعد پڑھنے کے لئے مسنون دعا اس کے بعد وہ بعض دعائیں جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں پڑھتا ہے مثلاً یہ کہ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْ ذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْـحُزْنِ وَأَعُوْ ذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسْلِ وَأَعُوْ ذُبِکَ مِنَ الْـجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوْ ذُبِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَ قَھْرِ الرِّجَالِ(ابو داؤد کتاب الصلوٰۃ باب الاستعاذۃ) یعنی اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ مجھے کوئی گھبرا دینے والی مصیبت پہنچے یا مجھے غم فکر دبالیں اور اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں وہ سامان کھو بیٹھوں جن سے میری زندگی کے کام چلتے ہیں یا وہ طاقتیں میری جاتی رہیں جن کی مجھے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ضرورت ہے اور اس سے بھی پناہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس ترقی میں مدد دینے والے سامان تو موجود ہوں یا ترقی میں مدد دینے والی طاقتیں تو مجھے حاصل ہوں مگر اُن کے استعمال سے میں گریز کروں اور سستی اور کاہلی کا شکار ہو جائوں اور اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں بزُدلی اور ُبخل کی اخلاقی امراض سے۔اور اے میرے رب! اس بارہ میں بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ مجھے قرض دبالے اور میں لوگوں کی نظروں میں قرض نہ ادا کرنے کی وجہ سے ذلیل ہو جائوں اور اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ ایسے انسان مجھ پر مسلّط ہو جائیں جو میرے حقوق کو تلف کریں اور مجھے ان ترقیات کے حصول سے روک دیں جو ہر انسان کے لئے تو نے اپنے فضل سے مقدر کر چھوڑی ہیں۔نماز کو ختم کرنے کا طریق یہ اور اسی قسم کی اور دعائیںہیں جو رسول کریم صلی اللہ سے ثابت ہیں ان دعائوں کو اس موقع پر مسلمان پڑھتا ہے یا جو اور دعائیں اپنی ضرورت کے مطابق مناسب سمجھتا ہے مانگتا ہے پھر وہ پہلے دائیں طرف منہ کر کے اَلسَّـلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہتا ہے اور اس کے بعد بائیں طرف منہ کر کے اَلسَّـلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ کہتا ہے اور اس کی نماز ختم ہو جاتی ہے۔یہ اس صورت میں ہے کہ نماز دو رکعت کی ہو اگر دو رکعت سے زائد کی نماز ہو تو بجائے اِدھر اُدھر منہ پھیر کر اَلسَّـلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہ کہنے کے مسلمان اَللّٰہُ اَ کْبَرْ کہہ کر پھر کھڑا ہو جاتا ہے اور تین رکعت کی نماز ہو تو ایک