تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 165
رکعت او رپڑھ کر دوبارہ تشہد پڑھ کر سلام پھیرتا ہے اور اگر چار رکعت کی نماز ہو تو دو رکعت اور پڑھ کر پھر تشہد میں بیٹھ کر اور اوپر کی دعائیں اور کلمات پڑھ کر سلام پھیر دیتا ہے۔جب دو رکعت سے زائد کی نماز ہو تو پہلے تشہد کے بعد ایک یا دو رکعت جو وہ پڑھتا ہے ان میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھتا ہے قرآن کریم کی زائد آیات نہیں پڑھتا۔مسلمانوں پر پانچ نمازوں کی فرضیت اور ان کی تفصیل اور ان کے اوقات نمازمسلمانوںپر پانچ وقت فرض ہے ایک نماز صبح کی جس کا وقت پَوپھٹنے سے لے کر سورج نکلنے کے وقت تک ہوتا ہے یعنی سورج نکلنے سے پہلے یہ نماز ختم ہو جانی چاہیے اس نماز کی دو رکعت ہوتی ہیں ایک نماز سورج ڈھلنے سے لے کر اندازاً پونے تین گھنٹہ بعد تک پڑھی جاتی ہے گرمیوں میں یہ وقت ہندوستان میں کوئی تین گھنٹہ تک چلا جاتا ہے اس نماز کو ظہر کی نماز کہتے ہیں اور اس کی چار رکعت ہوتی ہیں اس کے بعد تیسری نماز کا وقت شروع ہوتا ہے یہ نماز دھوپ کے زَرد ہونے کے وقت تک پڑھی جا سکتی ہے اسے عصر کی نماز کہتے ہیں اور اس کی بھی چار رکعت ہوتی ہیں اس کے بعد سورج ڈوبنے سے لے کر شفق یعنی مغرب کی طرف کی ُسرخی کے غائب ہونے تک چوتھی نماز کا وقت ہوتا ہے اور اسے مغرب کی نماز کہتے ہیں اس کی رکعتیں تین ہوتی ہیں پہلی دو رکعتوں کے بعد تشہد پڑھتے ہیں اور پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے ہیں اور دونوں سجدوں کے بعد تشہد میں بیٹھ کر اور جو دعائیں اوپر بیان ہو چکی ہیں پڑھ کر سلام پھیر دیتے ہیں۔اس کے بعد پانچویں نماز کا وقت شروع ہوتا ہے جسے عشاء کی نماز کہتے ہیں اس کا وقت ہندوستان کے اوقات کے لحاظ سے غروب آفتاب سے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ بعد سے شروع ہوتا ہے اور نصف شب تک اور بعض کے نزدیک اس کے بعد تک بھی چلا جاتا ہے اس نماز کی رکعتیں بھی چار ہوتی ہیں جو رکعتیں بیان کی گئی ہیں یہ اس وقت کے لئے ہیں جبکہ انسان وطن میں موجود ہو یا ایسی جگہ پر ہو جہاں اس کی مستقل اقامت ہو۔جب سفر میں ہو تو اس صورت میں صبح اور مغرب کی نمازوں کے سوا دوسری نمازیں آدھی پڑھی جاتی ہیں یعنی بجائے چار رکعتوں کے دو دو رکعت پڑھی جاتی ہیں بعض لوگوں میں غلطی سے یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ سفر میں آدھی نماز رہ گئی ہے لیکن اصل بات یہ نہیں بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے جسے امام مالک ؒنے نقل کیا ہے (مؤطا امام مالک کتاب الصلوٰۃ ،باب قصر الصلٰوۃ فی السّفر) ثابت ہے کہ جب نماز فرض ہوئی ہے تو ظہر عصر اور عشاء کی دو رکعتیں ہی تھیں مگر بعد میں سفر کی حالت میں دو دو رکعتیں ہی رہنے دی گئیں لیکن حضر یعنی اقامت کے اَ یّام میں دُگنی نماز کر دی گئی۔یعنی دو دو کی جگہ چار چار رکعتوں کا حکم ملا۔ان نمازوں میں سے صبح کی نماز باجماعت ہو تو امام سورہ فاتحہ اور قرآن کریم کا حصہ بلند آواز سے پڑھتا ہے