تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 135
بڑھتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:۷۰) یعنی جو لوگ ہماری محبت اور ہمارے وصال کے حصول کے لئے ہمارے بتائے ہوئے قواعد کے مطابق (اس پر فِیْنَاکے الفاظ دلالت کرتے ہیں اور ان سے ایک مراد قرآن کریم ہے) جدوجہد کرتے ہیں انہیں ہم یکے بعد دیگرے ان راستوں کا پتہ بتاتے چلے جاتے ہیں جو ہم تک پہنچنے والے ہیں۔اس آیت میں بھی اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ہدایت کے راستے محدود نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا راستہ ہے۔اسی طرح فرماتا ہے نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (التحریم:۹) یہ آیت مابعد الموت زندگی کے متعلق ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کو جب آنحضرت صلعم اور مومن جنت کی طرف جائیں گے تو ان کے ایمان و عمل کے نتیجہ میں پیدا شدہ نور ان کے آگے ہو گااور وہ یہ کہتے جائیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے نور کو مکمل کر دے او رہماری کمزوریوں کو ڈھانپ دے تو ہر شے پر قادر ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہدایت صرف اِسی دنیا میں نہیں بڑھتی بلکہ بعد الموت بھی ہدایت اور عرفان میں انسان ترقی کرے گا اور نئی طاقتیں اُسے ملتی جائیں گی۔خلاصہ یہ کہ ہدایت کے لفظ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دوسری آیاتِ قرآنیہ اس کی موید ہیںکہ روحانی ترقیات غیر محدود ہیں اور قرآن کریم متقیوں کو ان اعلیٰ ترقیات کی طرف بڑھاتا لئے جاتا ہے۔قرآن مجید پر عمل کرنے سے انسان منزلِ مقصود کو پا لیتا ہے چوتھے معنے ہدایت کے جیسا کہ حل لغات میں بتایا جا چکا ہے قرآن کریم سے یہ ثابت ہیں کہ انجام بخیر اور جنت حاصل ہو جاتی ہے۔ان معنوں کے رُو سے اس جملہ کے معنے ہوتے ہیں کہ قرآن کریم میںایسی تعلیم ہے کہ جس کی امداد سے خدا ترس انسان اپنی منزلِ مقصود یعنی جنت کو حاصل کر لیتا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ دعویٰ سب مذاہب ہی کرتے ہیں اور بظاہر اس مضمون میں کوئی جدت یا افضلیت نہیں پائی جاتی۔لیکن جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ اس میں جنت کے حصول کے کیا معنے ہیں؟ تو پھر یہ دعویٰ بالکل جدید اور نرالا ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں لکھا ہے کہ جنت کے حصول کے یہ معنے نہیں کہ انسان مرنے کے بعد جنت میں داخل ہو جائے بلکہ مرنے کے بعد کی جنت کا حصول اس دنیا میں جنت کے حصول سے وابستہ ہے جسے اس دنیا میں جنت مل جائے صرف اسی کو بعد الموت جنت ملے گی۔چنانچہ فرماتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرحمٰن:۷۳) یعنی جو شخص تقویٰ کے سچے مقام پر ہوتا ہے اُسے دو جنتیں ملتی ہیں۔ایک اس دنیا میں اور ایک