تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 136
اگلے جہان میں۔اور ایک دوسری جگہ فرماتا ہے وَ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى ( بنی اسرائیل :۷۳) یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو یعنی اُسے دیدارِ الٰہی نصیب نہ ہو وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہی ہو گا اور دیدارالٰہی یا دوسرے الفاظ میںجنت سے محروم رہے گا۔قرآن مجید کی تعلیم پر عمل کرنے سے جنت مل جانے کا مطلب قرآن کریم کی اس تشریح کو مدنظر رکھتے ہوئے جنت کے ملنے کے معنے صرف یہ نہیں کہ مرنے کے بعد قرآن کریم کا مومن جنت حاصل کرے گا کیونکہ یہ صرف ایک دعویٰ ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن کریم پر ایمان لانے والا اور اس کی روشنی سے فائدہ اٹھانے والا شخص اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایمان بالغیب اس کے لئے ایمان بالمعاینہ ہو جاتا ہے۔وہ صرف عقیدۃً اس امر کو نہیں مانتا کہ اسے مرنے کے بعد جنت مل جائے گی بلکہ اسی دنیا میں اللہ تعالیٰ اپنی صفات کو اس کے لئے ظاہر کرتا ہے اور اپنے وجود کو اس کے سامنے لے آتا ہے یہاں تک کہ وہ موت سے پہلے ہی اپنے آپ کو جنت میں محسوس کرنے لگتا ہے اور جسمانی موت صرف اُس کے مشاہدہ کو زیادہ روشن کرنے کا موجب ہوتی ہے ورنہ مشاہدہ اور دیدارِ الٰہی اُسے اسی دنیا میں میسر آ جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ ایسا مقام ہے جس کے بعد کوئی بے چینی اور شک باقی نہیں رہتا اور ایسا انسان ہر ٹھوکر اور ابتلاء سے محفوظ ہو جاتا ہے اور گویا اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کی گودمیں جا بیٹھتا ہے۔پس قرآن کا مومنوں کو قرآن کریم کے ذریعہ سے جنت ملنے کا دعویٰ کرنا محض ایک بے دلیل دعویٰ نہیں بلکہ وہ اسے ایک ایسی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے جس کا جھوٹ اور سچ اسی دنیا میں آزمایا جا سکتا ہے۔اور اسلام کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو اس دعویٰ کے لئے دلیل کے طور پر تھے اور جن کو اللہ تعالیٰ کا وصال اور دیدار کامل طو رپر اسی دنیا میں حاصل ہو گیا اور اسی دنیا میں جنت میں داخل ہو گئے۔یعنی ہر قسم کے شیطانی حملوں سے محفوظ ہو گئے اور ہر قسم کی روحانی نعمتوں سے متمتع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے تازہ بتازہ کلام کو انہو ںنے سُنا اور اس سے بالمشافہ انہوںنے باتیں کیں اور اس کے زندہ نشانوں کو انہو ںنے اپنی ذات میں دیکھا اور دوسروں کے وجودوں میں انہیں دکھایا۔آیت هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ پر ایک اعتراض کا جواب بعض لوگ اس آیت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر قرآن کریم متقیوں کے لئے ہدایت ہے تو معلوم ہوا کہ متقی پیدا کرنے کےلئے اور کسی کلام یا کتاب کی ضرورت ہے۔سو یاد رہے کہ یہ اعتراض محض قلت تدبر سے پیدا ہوا ہے کیونکہ قرآن کریم تقویٰ پیدا کرنے کا بھی مدعی ہے۔چنانچہ