تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 112
شہادت ہوتا ہے اور اس کی کم علمی یا بصیرت کے ُضعف پر دلالت کرتا ہے مگر قرآن کریم فرماتا ہے کہ زمین اور آسمان میں جو بھی ہے انسان ہوں یا حیوان ہوں۔فرشتے ہوں یا ارواح ہوں اسی طرح نباتات ہوں کہ جمادات ہوں باریک سے باریک ذرّہ ہو کہ بڑے سے بڑا سماوی ُکرّہ ہو۔سب کے سب اس بات پر شہادت دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک ہے اور اس نے زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی بلکہ آیت کا مضمون اس بات کو بھی پیش کر رہا ہے کہ مومن ہوں یا کافر مخلص ہوں یا منافق سب ہی باوجود اپنے منہ کے غلط بیانات اور دماغ کے مخالف خیالات کے اپنے وجود اور اپنے عمل سے اس امر کو ثابت کر رہے ہیں کہ زمین و آسمان کی پیدائش میں اللہ تعالیٰ نے غلطی نہیں کی۔دنیا کا وجود اللہ کے ہر عیب سے پاک ہونے پر دلالت کرتا ہے اس کے بعد فرماتا ہے کہ اس دعویٰ کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا کا وجود خدا تعالیٰ کے َملک قدّوس عزیز اور حکیم ہونے پر دلالت کر رہا ہے یعنی نظامِ عالم اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مَلِک یعنی بادشاہ ہے اور اس کی طرف سے ایک قانون دنیا کو ملا ہے جس کی پابندی کرنے والے انعام پاتے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والے سزا پاتے ہیں۔مَلِک سے اس جگہ قانونِ شریعت مراد ہے یا قانون طبعی کا وہ حصہ جس کی خلاف ورزی کا انسان مرتکب ہو سکتا ہے جیسے مثلاًزیادہ کھا جانا یا آنکھ ناک کان سے زیادہ یا کم کام لینا۔غرض اللہ تعالیٰ کا وہ قانون جس کی اطاعت جبراً نہیں کی جاتی بلکہ اس پر چلنے یا نہ چلنے کی بندے کو مَقدرت حاصل ہوتی ہے اس کا ملوکیت والا قانون ہے کیونکہ بادشاہی قانون بھی ایسے ہی ہوتے ہیں کہ لوگوں کو ان کے توڑنے کی طاقت ہوتی ہے گو ان کے توڑنے پر وہ سزا پاتے ہیں۔اس ملوکیت والے قانون پر عمل کرنے والے انعامات پاتے ہیں۔شرعی قانون پر عمل کرنے والے روحانی انعام اور طبعی قانون پر عمل کرنے والے طبعی انعام۔اور یہ اس امر کا ثبوت ہے۔کہ اس نظام عالم کا کوئی بادشاہ ہے چنانچہ انبیاء اور صلحاء کے ساتھ جو معاملہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے وہ ایک قادر خدا کا جو تمام مخلوقات کا بادشاہ ہے ایک قطعی اور یقینی ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کا جملہ عیوب سے مبرا ہونے کا ثبوت اس کی چار صفات سے اس کے بعد فرماتا ہے اَلْقُدُّ وس وہ پاک اور تمام عیوب سے مبرّا ہے یعنی اس کی ملوکیت کے معاملہ پر غور کرو تو تم کو معلوم ہو گا کہ اس کا معاملہ دنیوی بادشاہوں اور سلطنتوںکا سا نہیں ہے کہ ان کے حکاّم اور بادشاہ اپنی حکومت کے قیام کے لئے ہر قسم کے اعمال کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ اس کی صفت ملوکیت اس طرح ظاہر ہوتی ہے کہ اس سے اس کی قدوسیت ثابت ہوتی ہے۔مثلاً یہ کہ اس کی طرف سے جو لوگ اس کے قانون کو جاری کرنے کے لئے مبعوث ہوتے ہیں وہ اعلیٰ اخلاق سے