تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 111
کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر کسی مذہب نے کوئی اتہام لگایا ہو گا لیکن ذرا سے تأ مل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ ناقابلِ فہم غلطی بھی انسان کر چکا ہے اور خوب پیٹ بھر کر کرچکا ہے۔توریت خدا کی نسبت کہتی ہے کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے تھک گیا اوراسے آرام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی حالانکہ جو تھکے وہ خدا نہیں ہو سکتا۔بائبل میں لکھا ہے کہ دنیا کو پیدا کر کے ساتویں دن اللہ تعالیٰ نے آرام کیا (پیدائش باب ۲۔آیت ۲ و ۳ بعض اردو کے نسخوں میں مترجموں نے آرام کیا کی جگہ اعتراض کے ڈر سے فراغت پائی لکھ دیا ہے لیکن دوسرے نسخوں اور انگریزی کے نسخوں میں آرام کیا کے الفاظ ہی ہیں) اللہ تعالیٰ کی ذات پر اتہام لگانے کے متعلق قرآن مجید کا بائبل سے اصولی اختلاف اور یہ اللہ تعالیٰ پر اتہام ہے کہ وہ کام کرتے کرتے تھک گیا اور اُسے آرام کی ضرورت محسوس ہوئی لیکن قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو اس اتہام سے بری قرار دیتا ہے اور اس کی طرف سے یہ قول نقل فرماتا ہے وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ (ق :۳۹) یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو چھ اوقات میں پیدا کیا لیکن اس کام سے ہمیںکوئی تھکان محسوس نہیں ہوئی اور نہ آرام کرنے کی حاجت پیدا ہوئی۔اسی طرح مثلاً بائبل میں اللہ تعالیٰ کی نسبت لکھا ہے کہ ’’تب خداوند زمین پر انسان کے پیدا کرنے سے پچھتایا اور نہایت دلگیر ہوا۔‘‘(پیدائش باب ۶ آیت ۶) گویا انسان کو پیدا کرنا ایک غلطی تھی اوراس پر نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کو ندامت پیدا ہوئی اور وہ اس پر دلگیر ہوا۔یہ اللہ تعالیٰ پر ایک اتہام ہے وہ خدا ہی کیا ہوا جو غلطی کرتا ہے اورنہیں جانتا کہ میرے فعل کا کیا نتیجہ ہو گا؟ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ سُبْحَاناور قُدُّوْس یعنی وہ سب عیبوں سے پاک ہے اور سب بزرگیوں کا مالک ہے اور اسی سورۃ میں آگے چل کر فرماتا ہے کہ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (البقرة :۳۴) یعنی میں اللہ آسمان و زمین کے متعلق تمام امور ابتدائے آفرینش سے اور آئندہ کے تمام زمانوں کے متعلق خوب اچھی طرح جانتا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ جس کو آسمان اور زمین کے متعلق پورا غیب حاصل تھا اور وہ اس کے حال اور مستقبل سے اچھی طرح واقف تھا اس کی نسبت کب یہ تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ اس نے غلطی سے دنیا کو پیدا کر دیا اور بعد میں پچھتانے لگا؟ دنیا کا وجود اللہ کے ہر عیب سے پاک ہونے پر دلالت کرتا ہے پھر ایک اصول کے طور پر قرآن کریم میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيْزِ الْحَكِيْمِ(الجمعة :۲) یعنی زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اللہ کے ہر عیب سے پاک ہونے پر دلالت کرتا ہے۔اس میں کس طرح اصولاً بائبل کے خیال کے خلاف تعلیم دی ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو پیدا کرنے میں کوئی غلطی نہیں کی کیونکہ جو کام ایک فاعل بالارادہ غلطی سے کرتا ہے یا جو انجام کے لحاظ سے غلط ہو جاتا ہے وہ کام اپنے فاعل کے نقص پر ایک