تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 113
متصف ہوتے ہیں اور جس قدر کوئی اس کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر بنی نوع انسان کا ہمدرد ہوتا ہے۔اسی طرح جو اس کے طبعی قانون پر عمل کرتا ہے اس کے اعلیٰ سے اعلیٰ فوائدحاصل کرتا ہے اور طبعی نقائص سے محفوظ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے جاری کردہ قانون کے مطابق آنکھوں سے کام لینے والے کی آنکھیں مضبوط ہوںگی اس کے قواعد کے مطابق معدہ سے کام لینے والے کا معدہ تمام بیماریوں سے بچا رہے گا۔غرض اس کا قانون ایسا ہے کہ اس پر عمل انسان کو مشقت اور تکلیف میں نہیں ڈالتا بلکہ اس پر عمل سے انسان قدوسیت کی چادر پہنتا ہے یعنی جس قدر عمل کرتا ہے اسی قدر نقصوں سے پاک ہوتا جاتا ہے۔شرعی قانون پر عمل کرنے سے روحانی طہارت ملتی ہے اور طبعی قانون پر عمل کرنے سے جسمانی طہارت اور قوت حاصل ہوتی ہے۔پھر فرماتا ہے کہ وہ عَزِیْز بھی ہے یعنی اگر مخلوقات پر نگاہ ڈالو تو اس قانون کے علاوہ جو ملوکیت کے قانون کے مشابہ ہے او رجس پر عمل کرنے یا نہ کرنے پر انسان کو َمقدرت حاصل ہے اس کا ایک اور بھی قانون ہے جس کی خلاف ورزی کوئی نہیں کر سکتا جسے قانونِ فطرت کہنا چاہیے۔یہ قانون بھی دو قسم کا ہوتا ہے روحانی بھی اور جسمانی بھی۔روحانی قانون تو وہ ہے جسے دِیْنُ الْفِطْرَۃ کہتے ہیں اور جس میں تمام اخلاقی جذبات شامل اور جوہر مومن و کافر میں پایا جاتا ہے اور جو آخر ہر اس شخص کی ہدایت کا موجب ہوتا ہے جو سچے دل سے دین اور مذہب کو سمجھنا چاہے۔اس قانون سے بچنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔مثلاً رحم اور شکر گزاری کے جذبات ہیں کہ ہر شخص میں پائے جاتے ہیں۔ظالم سے ظالم میں بھی یہ جذبات پائے جاتے ہیں۔کوئی انسان ان کے اثر سے بچ نہیں سکتا۔ایک ڈاکو جو ہزاروں قتل کر کے ندامت محسوس نہیں کرتا اپنے بچے کی بیماری پر چیخیں مار کر رونے لگتا ہے۔اسی طرح بسا اوقات دیکھا جاتا ہے۔کہ ڈاکو اور چور بھی ان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتے جنہوں نے ان سے کبھی حسنِ سلوک کیا ہو۔غرض بطور جذبۂ فطرت کے یہ مادے ہر انسان میں موجود ہیں گوبد استعمالی کی وجہ سے بعض لوگ ان کا استعمال بہت محدود کر دیتے ہیں۔جسمانی نظام میں یہ قانون ان طبعی خواص پر مشتمل ہے جن کے ماتحت تمام نظام عالم چل رہا ہے ایک دہر یہ خدا تعالیٰ کو منہ سے گالیاں دے لیتا ہے لیکن اُس کے اُس قانون کی نافرمانی نہیں کر سکتا جو صفت ِ عزیز کے ماتحت ظاہر ہوتا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے اس کی زبان کو چکھنے کے لئے بنایا ہے اس میں یہ طاقت نہیں کہ زبان سے دیکھنے کا کام لے سکے۔باوجود مذہب میں بغاوت کرنے کے وہ اُس کے اِس قانون کی بلا چون و چرا پابندی کرتا ہے۔اسی طرح جو جو خواصِ اشیاء اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں وہ اسی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں کہ جس صورت میں خدا تعالیٰ نے ان