تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 99

اللہ تعالیٰ کی نعمتو ںمیں سے نہ ہو اور اس کی روشنی سے حاصل نہ ہوا ہو اور ان میں سے ایک حرف بھی ایسا نہیں جو بعض اقوام کی تاریخ اور ان کے زمانہ پر دلالت نہ کرتا ہو‘‘ یعنی ان حروف سے یہ تینو ںمعنے بیک وقت ظاہر ہوتے ہیں ان سے صفاتِ الٰہیہ پر بھی دلالت کی گئی ہے اور مختلف زمانوں کے بارہ میں پیشگوئی بھی کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے معجزانہ کلام کا نمونہ بھی دکھایا گیا ہے اور ابوالعالیہ کا یہ خیال نہایت درست اورمطابق حقیقت ہے۔ابن جریر نے بھی اس روایت کو دوسرے لفظوں میں نقل کیا ہے اور اس کے مضمون کی تصدیق کی ہے۔حروف ِمقطّعات کی نسبت یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس غیر معمولی طریق کو قرآن کریم نے کیوں استعمال کیا کیوں نہ یہی مضمون سیدھی سادھی عبارت میں بیان کر دیا۔تاکہ اوّل عربوں پر او ربعد میں دوسرے لوگوں پر اس کا سمجھنا آسان ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ غیر معمولی طریق نہیں بلکہ عربوں میں یہ طریق کلام رائج تھا اور ان کے بڑے بڑے شاعر بھی اسے استعمال کرتے تھے اور نثر میں بھی اس کا استعمال ہوتا تھا چنانچہ ایک شاعر کہتا ہے ع قُلْنَا قِفِیْ لَنَا فَقَالَتْ قاف ہم نے اس سے کہا کہ تو ذرا ہماری خاطر ٹھہر جا تو اس نے جواب میں قاف کہا یعنی وقَفْتُ لو میں کھڑی ہو گئی ہوں۔اسی طرح ایک دوسرا شاعر کہتا ہے۔؎ بِالْخَیْرِ خَیْرَاتٌ وَ اِنْ شَرًّا فَا وَلَا اُرِیْدُ الشَّرَّ اِلَّا اَنْ تَا یعنی نیکی کے بدلہ میں نیکی کروںگا۔لیکن اگر تیرا ارادہ بدی کرنےکا ہو تو میں اس کیلئے بھی تیار ہو ںاور میں بدی کا ارادہ نہیں رکھتا سوائے اس کے کہ تیرا ارادہ ہو۔اس شعر میں فَشَرٌّ کی جگہ صرف حرفِ فا استعمال کیا گیا ہے اور تَشَائُ یعنی تو چاہے کی جگہ صرف حرفِ تا استعمال کیا گیا ہے۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں بھی ہے کہ ’’مَنْ اَعَانَ عَلٰی قَتْلِ مُؤْمِنٍ بِشَطْرِ کَلِمَۃٍ لَقِیَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ مَکْتُوبٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ آ یِسٌ مِّنْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ‘‘ (ابن ماجہ ابواب الدِّیَات باب التغلیظ فی قتل مسلمٍ ظُلْمًا) یعنی جو شخص کسی مسلمان کے قتل میں ایک لفظ کا حصّہ استعمال کرے (یعنی اُقْتُلْ کی جگہ اُقْ کہہ دے) تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں اُٹھے گا کہ اس کے ماتھے کے درمیان یہ لکھا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہو گیا۔پس عرب میں نظم و نثر میں جب قرینہ موجود ہو الفاظ کی جگہ حروف استعمال ہوتے تھے اور اس اسلوب کلام کا ایک لطیف نمونہ حروفِ مقطّعات کے ذریعہ سے قرآنِ کریم نے دکھایا ہے۔آج کل یورپ نے تو اس اسلوب کو بےحد استعمال