تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 98

قانونِ ارتقاء کے ماتحت ہے اس کے بعد سورۂ یوسف میں صاف الفاظ میں تاریخ عالم کی طرف اشارہ کیا ہے سورۂ رعد میں چونکہ میم زائد تھا اس میں الٓـمّٓ اور الٓـٰر دو مضمونوں کو جمع کر دیا اور پہلے تو میم کی مناسبت سے ایک یقینی کلام کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے بعد پیدائشِ عالم کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے سورۂ ابراہیم میں پھر قانونِ قدرت کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ اسے دیکھو اس میں تمہیں ایک بیدار آقا کا ہاتھ نظر آئے گا۔سورۂ حجر میں پھر پچھلی تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ امر ظاہر ہے کہ واقعات اور قانون کا تعلق دیکھنے سے ہے حقیقت تک وہی پہنچ سکتا ہے جس کی آنکھو ںکے سامنے واقعات ہوںیا جس کی آنکھوں کے سامنے کوئی قانون ظاہر ہو رہا ہو۔پس ان سورتوں کا رویت کے ساتھ تعلق ہے اور الٓـٰر میں یہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ َمیں اللہ دیکھتا ہوں نہ توپرانی تاریخ میری نظر سے پوشیدہ ہے اور نہ قانونِ قدرت کا اجراء یا پیدائش عالم میری نگاہ سے مخفی ہے۔پس رویت سے تعلق رکھنے والے اُمور میں میری ہی ہدایت کافی ہو سکتی ہے۔ایک اور بات بھی حروف مقطّعات کے متعلق یاد رکھنی چاہیے کہ گو حروفِ مقطّعات کے مضامین حروف کے اختلاف سے بدلتے رہتے ہیں لیکن ایک امر میں یہ سب حروف مشترک ہیں اور وہ یہ کہ جو سورتیں حروفِ مقطّعات سے شروع ہوتی ہیں ان کے مضمون کی ابتداء وحیِ الٰہی کے ذکر سے ہوتی ہے۔اکثر میں تو صاف الفاظ میں کتاب یا قرآن کا لفظ ہی استعمال ہوا ہے اور چند ایک میں کسی پرانی کتاب کی طرف اشارہ ہے جیسا سورۂ مریم میں یا کسی خاص کلام کی طرف اشارہ ہے جیسا سورۂ روم میں (یہ نوٹ جلد ۳ میں سورۂ یونس کی تفسیر میں چھپ چکا ہے لیکن چونکہ حالات کی مجبوری سے پہلی جلد بعد میں چھپ رہی ہے اس نوٹ کو سورۂ بقرہ میں درج کرنا پڑا۔تاکہ شروع سے تفسیر پڑھنے والے پر بھی حروفِ مقطّعات کی حقیقت واضح ہو جائے) یہ دو معنے جو اوپر کئے گئے ہیں یعنی (۱) حروف مقطعات صفات الٰہیہ پر دلالت کرتے ہیں اور ہر حرف کسی ایسی صفت پر دلالت کرتا ہے جس کا ذکر اس سورۃ میں پایا جاتا ہے (۲) ان حروف سے اشارہ حروف کی عددی قیمت کی طرف ہے اور جس قدرعد دان حروف سے نکلتے ہیں اس قدر زمانہ کے حالات پر ان سے خاص طور پر روشنی پڑتی ہے دونو ںہی درست ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ ایک کو درست اور دوسرے کو غلط کہا جائے اور اس بارہ میں ابتدائِ اسلام کے بعض اَئمہ بھی مجھ سے متفق ہیں چنانچہ ابن ابی حاتم نے ابو جعفر رازی کی روایت سے ابو العالیہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ایک حصّہ کا ترجمہ یہ ہے ’’ان حروف میں سے ایک حرف بھی ایسا نہیں (یعنی ا ل م اور دوسرے مقطّعات میں سے) جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت کی ُکنجی نہ ہو اور نہ ان میں سے کوئی حرف ہے جو