تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 100
کیا ہے ایم اے۔بی اے۔بی ٹی۔ایم ڈی وغیرہ سینکڑوں ہزاروں حروف الفاظ کے قائم مقام استعمال ہو رہے ہیں اور لوگ ان کے فائدہ کو سمجھتے ہیں۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ۙ۰۰۳ یہی کامل کتاب ہے۔اس (امر) میں کوئی شک نہیں۔متقیوں کو ہدایت دینے والی ہے۔حلّ لُغَات۔ذٰلِکَ۔ذٰلِکَ اسم اشارہ ہے اور اشارہ بعید کے لئے آتا ہے جس کا ترجمہ اردو میں وہ ہے لیکن کبھی ھذا کے معنوں میں یعنی قریب کی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے چنانچہ زجاج کا قول ہے۔ذٰلِکَ الْکِتٰبُ اَیْ ھٰذَا الْکِتٰبُ یعنی ذٰلِکَ الْکِتٰبُ کے معنی ہیں یہ کتاب (تاج العروس) لیکن ذٰلِکَ کو اشارہ بعید کے لئے تصوّر کرتے ہوئے بھی ذٰلِکَ کے معنی یہ کئے جا سکتے ہیں کیونکہ کبھی قریب کی چیز کے لئے دور کا اشارہ اس کے فاصلہ کی دوری کے اظہار کے لئے نہیں بلکہ اس کی شان کی بلندی کے اظہار کے لئے بھی استعمال کر دیا جاتا ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھٰذا) اَلْکِـتٰبُ۔ال کی اقسام اَلْکِـتٰبُ ال اور کتاب کا مجموعہ ہے اور معنوں کے علاوہ ال حرف تعریف بھی ہے اس صورت میں یہ کبھی عہد کے لئے ہوتا ہے اور کبھی جنس کے لئے۔جب عہد کے لئے ہو تو کبھی ذکری ہوتا ہے اور کبھی ذہنی اور کبھی حضوری یعنی جس لفظ پر ال آئے کبھی تو اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ وہی امر ہے جس کا ذکر کر آئے ہیں اور کبھی یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ ہماری مراد اس چیز سے ہے جو ہم اور تم دونوں اپنے دلوں میں جانتے ہیں اور کبھی یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ جو سامنے چیز پڑی ہے میں اسی کا ذکر کر رہا ہوں۔اور جب جنسی ہو تو اِستغراقی ہوتا ہے یعنی اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ اس جنس کے سب افراد اس لفظ میں شامل ہیں۔اِستغراقی آگے کبھی حقیقی ہوتا ہے جیسے خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔انسان ضعیف ہی پیدا کئے گئے ہیں اور کبھی مجازی۔مجازی کی صورت میں ال لا کر یہ بتایا جاتا ہے کہ کامل فرد یہی ہے ورنہ حقیقتاً اس قسم کے اور افراد بھی موجود ہوتے ہیں اس کی مثال اَنْتَ الرَّجُلُ ہے اس کے یہ معنی نہیں کہ بس تو ہی مرد ہے باقی سب عورتیں ہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ مرد کے کمالات کو اگر دیکھا جائے تو اس کی مکمل تعریف تجھ پر ہی صادق آتی ہے باقی مردوں میں کچھ نہ کچھ نقص ہیں۔استغراقی کے علاوہ جنسی ال تعریف حقیقت بیان کرنے کے لئے بھی آتا ہے جیسے اَ لْاِنْسَانُ اَفْضَلُ مِنَ الْحَیَوَانِ انسان اپنی حقیقت کے لحاظ